انوارالعلوم (جلد 19) — Page 219
انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۱۹ الفضل کے اداریہ جات دوسرے ذرائع کی وجہ سے اور اپنے ملک کی وسعت کی وجہ سے اور اپنے مقام وقوع کی وجہ سے ایسی حیثیت رکھتا ہے کہ اگر کسی وقت وہاں اسلامی حکومت قائم ہوگئی تو وہ اسلامی سیاست کی تقویت میں بہت بڑی ممد ثابت ہوگی۔تیسرے پاکستان کے محاذ میں ایبے سینیا کا ملک واقعہ ہے۔اٹلی کے لوگوں نے اریتھیر یا لے کر اس کو سمندر سے الگ کر دیا ہے لیکن باوجود اس کے وہ ملک حجاز سے تھوڑی دور ایک پتلی خلیج کے بالمقابل واقع ہے اس لئے اس کے ساتھ تعلقات عرب اور پاکستان کے لئے نہایت ہی مفید نتیجہ خیز ہو سکتے ہیں۔اگر اس ملک میں بھی کوئی سیاسی قا ئمقام مقرر ہو جائے تو آئندہ افریقہ میں اسلام کی اشاعت اور ترقی کے لئے رستہ کھل جائے گا۔ہم سمجھتے ہیں کہ ان باتوں کی طرف توجہ اس لئے نہیں ہو رہی کہ وزیروں کے سپرد بہت سے کام ہیں اور نائب وزراء مقرر نہیں ہیں۔ہمارے نزدیک اس طرف جلد توجہ کرنی چاہئے اور اسلامی پر لیس اور ذی اثر مسلمانوں کو بار بار حکومت پر اس کی ضرورت واضح کرتے رہنا چاہئے۔پاکستان کس حکومت سے تعاون کرے؟ مغربی پنجاب کا تعلیم یافتہ طبقہ آجکل اپنی مجالس میں کثرت سے یہ گفتگو کرتا ہوا سنا جاتا ہے کہ پاکستان کو اپنے بقاء کے لئے کسی نہ کسی دوسری قوم سے سمجھوتہ کرنا پڑے گا۔اکثر لوگ انگریز سے بدظن ہیں اور اس کے ساتھ صلح کرنا پسند نہیں کرتے۔یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ کی طرف بھی مسلمان نوجوانوں کی کوئی رغبت نظر نہیں آتی لیکن اکثر نوجوان روس کی مدد لینے کی طرف مائل نظر آتے ہیں ہمارے نزدیک یہ ایک خطر ناک بات ہے اور اس روکو جتنی جلدی ہو سکے روکنا چاہئے۔ہمارے نزدیک اس قسم کے خیالات رکھنے والے لوگوں کو دو باتیں کبھی نہیں بھولنی چاہئیں۔اول آج تک روس کے ساتھ تعلق رکھنے والی کوئی حکومت آزاد نہیں ہوئی۔روسی فلسفہ اس پر جبرا ٹھونسا گیا ہے کوئی ملک ایسا نہیں جس نے روس سے معاہدہ کیا ہو اور اس پر کمیونسٹ حکومت ٹھونس نہ دی گئی ہو۔کمیونسٹ خیال کا رکھنا اور چیز ہے اور کمیونسٹ حکومت کا ٹھونسنا اور چیز ہے لمبی تعلیم اور لمبے غور اور لمبے تجربہ کے بعد ایک خیال کو اپنا لیا بُر انہیں ہوتا لیکن پیشتر اس