انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 205 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 205

انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۰۵ الفضل کے اداریہ جات اسلام ہی کی تعلیم پر عمل کروں گا کیونکہ اگر میں نے ایسا نہ کیا تو آئندہ کے لئے میں یہاں کام نہیں کر سکوں گا۔خواہ وہ مسلمان جس نے اس پادری کو تھپڑ مارا تھا پکڑا ہی گیا ہو اور اسے سزا بھی ملی ہو پھر بھی اس نے اسلامی تعلیم کی فوقیت تو ثابت کروا لی اور عیسائی سے اقرار کروا لیا کہ وہ اپنی تعلیم پر عمل نہیں کر سکتا۔کیا ہم بھی دنیا کے سامنے یہی کہیں گے کہ بے شک اسلام کی اخلاقی تعلیم بہت اعلیٰ ہے مگر اس وقت ہم ہندوؤں اور سکھوں کا طریق ہی اختیار کریں گے اور اسی میں ہماری نجات ہے۔ایسا کہنے کے بعد اسلام کی دشمنوں کی نظر میں کیا وقعت رہ جائے گی۔ہماری جانیں ، ہمارے مال، ہماری عزتیں مشرقی پنجاب میں برباد ہوئیں۔اگر مغربی پنجاب میں ہمارا ایمان سلامت رہ جائے اور اس شورش اور فساد کے وقت میں ہم دنیا کو یہ بتا سکیں کہ اسلام کی تعلیم پر عمل کر کے امن اور صلح قائم ہو سکتی ہے تو ہم گھاٹے میں نہیں رہیں گے۔مال دشمن کے پاس چلا جائے گا ایمان ہم کو مل جائے گالیکن اگر یہ بات نہ ہوئی ، اگر ہم نے یہاں وہی طور طریقہ اختیار کیا جو سکھ اور ہندو مشرقی پنجاب میں اختیار کر رہا ہے تو ہمارے پاس کچھ بھی تو باقی نہیں رہے گا نہ دین نہ دنیا۔پس ہم تمام احباب سے یہ درخواست کرتے ہیں کہ وہ ملک میں یہ جذبہ پیدا کریں کہ اس موقع پر وہ اسلامی طریق کو اختیار کریں۔انتقام لینا حکومت کے اختیار میں ہوتا ہے پبلک کے اختیار میں نہیں ہوتا۔حکومت کو توجہ دلاؤ کہ وہ مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کرے مگر خود قانون اپنے ہاتھ میں نہ لو کہ یہ اسلام کے خلاف ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو یہاں تک فرمایا کہ جب ایک شخص نے آپ سے پوچھا کہ يَا رَسُولَ الله! اگر میں کسی شخص کو اپنی بیوی کے ساتھ بدکاری کرتے دیکھوں تو چونکہ اسلام نے زانی کی سزا رجم مقرر فرمائی ہے تب میں اُس کو قتل کر دوں؟ آپ نے فرمایا نہیں حکومت کو اطلاع دو اور حکومت کو اپنا قانون خود جاری کرنے دو۔اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو تم خدا تعالیٰ کی نگاہ میں قاتل سمجھے جاؤ گے۔کے دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کس طرح حکومت کی ذمہ داریوں کو حکومت کے سپر در کھنے کی تاکید کی ہے۔ہمیں یہ حکم نہیں بھولنا چاہئے اور حکومت کی ذمہ داریوں کو اپنے قبضہ میں نہیں لینا چاہئے۔یقینا یہ بات ہم پر گراں گزرتی ہے ہر رپورٹ جو ہم کو مشرقی پنجاب سے پہنچے گی ہمارے جذبات کو اُبھارے گی ، ہماری طبیعت میں غصہ پیدا کرے گی ، ہمارے اعصاب کھنچنے لگ جائیں گے