انوارالعلوم (جلد 19) — Page 200
انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۰۰ الفضل کے اداریہ جات بعد بھی ہندوستان یونین مسلمان پناہ گزینوں کے بڑے بڑے کیمپوں کو ریفیوجی کیمپ قرار نہیں دیتی تو پاکستان کی حکومت کیوں مشرقی پنجاب کے پناہ گزینوں کے نئے مقامات کو ریفیوجی کیمپ قرار دے رہی ہے۔حال ہی میں پاکستان گورنمنٹ نے پانچ نئے ریفیوجی کیمپ مقرر کئے جانے کا اعلان کیا ہے۔کیا وہ اس کے مقابلہ میں ہندوستان یونین سے یہ مطالبہ نہیں کر سکتی کہ تم بھی ہماری مرضی کے مطابق پانچ نئے کیمپ بناؤ۔ہمیں موثق ذرائع سے اطلاع ملی ہے کہ حال ہی میں ہندوستان یونین نے ڈیرہ اسماعیل خان میں ریفیوجی کیمپ بنانے کا مطالبہ کیا ہے جہاں صرف پانچ ہزار پناہ گزین ہیں۔پاکستانی حکومت کو چاہئے کہ ہندوستان یونین سے کہے کہ اگر ڈیرہ اسماعیل خان میں کیمپ بنانا چاہتے ہو تو قادیان میں بھی کیمپ بناؤ۔اگر ایسانہ کیا گیا تو پاکستانی حکومت کا رعب کم ہوتا جائے گا اور ہندوستان یونین کے مطالبات بڑھتے جائیں گے اور مسلمانوں کے حقوق پامال ہوتے چلے جائیں گے۔تازه آفیشل رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ ابھی تک سولہ لاکھ چھیالیس ہزار سات سو پچاس مسلمان مشرقی پنجاب کے کیمپوں میں پڑے ہیں۔ان کے مقابلہ میں صرف سات لاکھ سینتالیس ہزار دو سو بہتر غیر مسلم مغربی پنجاب میں ہیں۔ہمارے حساب سے تو یہ اندازہ بھی غلط ہے۔مسلمان ساڑھے سولہ لاکھ نہیں ۲۵ - ۲۶ لاکھ کے قریب مشرقی پنجاب میں پڑے ہیں اور خطرہ ہے کہ اپنے حقوق کو استقلال کے ساتھ نہ مانگنے کے نتیجہ میں یہ سات لاکھ غیر مسلم بھی جلدی سے اُدھر نکل جائے گا اور ۲۵ لاکھ مسلمانوں میں سے بمشکل ایک دولاکھ ادھر پہنچے گا یا کوئی اتفاقی بچ نکلاور نہ جو کچھ سکھ جتھے اور سکھ ملٹری اور پولیس ان سے کر رہی ہے اُس کو مد نظر رکھتے ہوئے کوئی اُمید ان کے بچنے کی نظر نہیں آتی۔بعض چھوٹے افسر یہ کہتے بھی سُنے گئے ہیں کہ مغربی پنجاب اتنے پناہ گزینوں کو سنبھال نہیں سکتا۔پس جتنے مسلمان ادھر مرتے ہیں اس سے آبادی کا کام آسان ہو رہا ہے۔یہ ایک نہایت ہی خطرناک خیال ہے ہمیں یقین ہے مغربی پنجاب کی حکومت کے اعلیٰ حکام اور وزراء کا یہ خیال نہیں مگر اس قسم کا خیال چند آدمیوں کے دلوں میں بھی پیدا ہونا قوم کو تباہی کے گڑھے میں دھکیل دیتا ہے۔مغربی پنجاب کے مسلمانوں کو۔جلدی منظم ہو جانا چاہئے اور جلد اپنے حقوق کی حفاظت کرنے کی سعی کرنی چاہئے اگر آج تمام