انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 192 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 192

انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۹۲ الفضل کے اداریہ جات اس اعلان کی ذرا بھی قدر نہیں کی اور ۱۶ / اگست کے بعد پہلے قادیان کے اردگر داور پھر قادیان میں وہ فساد بچوایا کہ جس کی کوئی حد ہی نہیں۔ایک ایک کر کے احمدی گاؤں کو برباد کیا گیا اور جنہوں نے دفاع کی کوشش کی اُن کو پولیس اور ملٹری نے گولیوں سے مارا۔جب قادیان کے اردگرد گاؤں ختم ہو گئے تو پھر قادیان پر حملہ شروع ہوا۔احمدی جماعت کے معززین یکے بعد دیگرے گرفتار ہونے شروع ہوئے قتل ڈاکے اور خونریزی کے الزام میں۔گویا وہ جماعت جس نے اپنی طاقت اور قوت کے زمانہ میں قادیان کے رہنے والے کمزور اور قلیل التعداد ہندوؤں اور سکھوں کو کبھی تھپڑ بھی نہیں مارا تھا اس نے تمام علاقہ کے مسلمانوں سے خالی ہو جانے کے بعد اور سکھ پولیس اور ہندو ملٹری کے آ جانے کے بعد ان علاقوں میں نکل کر جن میں کوئی مسلمان نہ دن کو جا سکتا تھا نہ رات کو ڈا کے مارے اور قتل کئے اور یہ ڈا کے اور قتل بھی اُن لوگوں نے کئے جو جماعت کے چوٹی کے آدمی تھے جن میں سے بعض ساٹھ سال کی عمر کے تھے ، مرکزی نظام کے سیکرٹری تھے اور یونیورسٹیوں کے گریجوایٹ تھے گویا احمد یہ جماعت جو اپنی عقل اور دانائی میں دنیا بھر میں مشہور تھی اُس وقت اُس کی عقل کا دیوالہ نکل گیا اور سکھ اور ہند و ملٹری کے آنے کے بعد اس نے اپنے مرکزی کارکنوں کو زمیندار سکھوں کو مروانے کے لئے باہر بھیجنا شروع کر دیا اور اس کے گریجوائٹ مبلغ ڈا کے مارنے کے لئے نکل پڑے۔شاید پاگل خانہ کے ساکن تو اس کہانی کو مان لیں مگر عقل مند لوگ ان باتوں کو قبول نہیں کر سکتے شاید ہندوستان یونین کے افسر یہ خیال کرتے ہیں کہ دنیا ان کی ہر بے وقوفی کی بات مان لے گی یا شاید وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ان کے سوا باقی ساری دنیا جاہل یا مجنوں ہے۔ہندوستان یونین کے وزراء نے بار بار یہ اعلان کیا ہے کہ وہ کسی مسلمان کو اپنے ملک سے نکل جانے پر مجبور نہیں کرتے لیکن قادیان کی مثال موجود ہے کہ ان لوگوں کو جو ہندوستان یونین میں رہنے پر راضی ہی نہیں بلکہ مصر ہیں طرح طرح کی تکلیفیں پہنچا کر پولیس اور ملٹری کے زور سے نکالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔قادیان کے متعلق ہندوستان یونین دنیا کو کیا جواب دے گی۔کیا وہ یہ کہے گی کہ یہ لوگ اپنے مقدس مذہبی مقام کو چھوڑ کر جا رہے تھے ہم نے ان کو روکا نہیں یا وہ یہ کہے گی کہ ایک کیپٹن اور ایک پوری کمپنی ملٹری کی وہاں موجود تھی اور اس کے علاوہ پولیس کا تھانہ بھی وہاں موجود تھا ۳۰۳ کی رائفلوں کے