انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 175 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 175

انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۷۵ الفضل کے اداریہ جات کیلئے تیار نہیں تھے۔تیسری مشکل یہ تھی کہ غیر مسلموں کی جائدادوں کا ایک بڑا حصہ سونے اور چاندی اور دوسری قیمتی اشیاء کی صورت میں تھا اور مسلمانوں کی جائداد کا بڑا حصہ زمینوں ، مکانوں، مویشیوں اور گھر کے اسباب کی صورت میں تھا۔ظاہر ہے کہ سونا چاندی اور قیمتی اشیاء بہت تھوڑی سی جدو جہد کے ساتھ ایک طرف سے دوسری طرف منتقل کی جاسکتی ہیں۔چنانچہ یہ حصہ مال کا تو پہلے ہی چند دنوں میں سکھ اور ہندو نکال کر لے گئے۔اس کے بعد چونکہ وہ لوگ پہلے سے تیار تھے انہوں نے اپنے اردگرد کے مسلمانوں پر حملے کر کے ان کے اموال بھی ٹوٹ لئے اور یہ کوٹا ہوا مال ان ہوائی جہازوں کے ذریعہ سے ہندوستان پہنچانا شروع کیا جو ہندوستان سے مغربی پنجاب کے ہندوؤں اور سکھوں کو نکالنے کے لئے آ رہے تھے۔ان جہازوں میں بالعموم ہندوؤں اور سکھوں کا اپنا مال نہیں جا تا تھا بلکہ گو ٹا ہوا مال جا تا تھا اپنا مال وہ بعد میں قافلوں کے ذریعہ سے لے گئے اور اس طرح قانونی گرفت سے محفوظ رہے۔مغربی اور مشرقی پنجاب کے تبادلہ آبادی کے افسروں میں بھی ایک بہت بڑا فرق تھا مغربی پنجاب کے تبادلہ آبادی کے افسر انگریز تھے اور ہیں۔مشرقی پنجاب نے بہت جلد انگریز افسروں کو بدل کر ان کی جگہ ہندو اور سکھ لگا دیئے۔یہ بات ظاہر ہے کہ ایک انگریز کو مسلمان کی جان اور مال کی اتنی فکر نہیں جتنی ایک ہندو اور سکھ کو ہندو اور سکھ کے مال اور جان کی فکر ہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوؤں اور سکھوں کا خروج بہت جلدی اور بہت عمدگی کے ساتھ ہوتا چلا گیا اور مسلمانوں کے اس ملک کے داخلہ میں مشکلات بھی پیدا ہوئیں اور دیر بھی ہوئی۔اب یہ حال ہے کہ ۲۲ ۲۷ لاکھ مسلمان مشرقی پنجاب میں پڑا ہے لیکن ہندو اور سکھ مغربی پنجاب میں صرف سات آٹھ لاکھ ہے جس دن یہ سات آٹھ لاکھ ختم ہو گیا مشرقی پنجاب میں باقی رہ جانے والے مسلمانوں کی جانوں کا اللہ ہی حافظ ہوگا۔ابھی تو ان سات لاکھ آدمیوں کی حفاظت کے خیال سے مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کی جانوں کی حفاظت بھی بعض افسر کرتے رہتے ہیں۔جب سب ہندو اور سکھ یہاں سے نکل گئے تو پھر کوئی سیاسی محرک بھی مشرقی پنجاب کے مسلمانوں کی جان بچانے کا باقی نہیں رہے گا۔پہلے ریلیں چلتی تھیں تا کہ ایک دوسرے کے ملک کے پناہ گزینوں کو نکال لے جائیں لیکن اب وہ سلسلہ بھی بند ہو رہا ہے۔اب پیدل قافلے چلتے ہیں