انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 165

انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۶۵ الفضل کے اداریہ جات بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ سیاست حاضره اس وقت ملک میں سیاست کا دور دورہ ہے۔”ہندوستان آزاد ہو کر رہے گا“ کے ہندوستانی نعرہ کی جگہ اب برطانوی حکام یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم ہندوستان کو آزادی دے کر رہیں گے لیکن ہندوستانی ہیں کہ آزادی لینے کا نام نہیں لیتے۔ہر اک انگریزوں کی طرف دیکھ کر آنکھیں مار رہا ہے کہ میرے دوست یہ خمر لطیف میری جھولی میں پھینکو۔ہندوؤں کے ظلموں کو دیکھ کر مسلمانوں نے پاکستان کا مطالبہ کیا غرض یہ تھی کہ اگر ایک حصہ ملک میں ہندو ثقافت کو ترقی کا موقع ملے تو دوسرے میں مسلمان بھی اپنے دل کا جوش نکال لیں۔پہلے تو اس نعرہ پاکستان کا مقابلہ کانگرس نے اکھنڈ ہندوستان کے ریزولیوشنوں سے کیا لیکن جب دیکھا کہ مسلمانوں کی دلیلیں غیر جانبدار طبقہ پر اثر کر رہی ہیں تو پنجاب اور بنگال کی تقسیم کا مطالبہ کر دیا جو اکھنڈ ہندوستان کیلئے جان دے رہے تھے۔اب کھنڈے ہوئے پنجاب اور بنگال کیلئے بے تاب نظر آتے ہیں۔گاندھی جی کبھی کبھی اکھنڈ ہندوستان کا نعرہ لگاتے ہیں لیکن دو دلی سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک آنکھ سے ایک طرف دیکھتے ہیں تو دوسری سے دوسری طرف۔اگر اکھنڈ کی آواز میں ہندو جاتی کا زیادہ فائدہ نظر آیا تو وہ اس پر زور دے دیں گے اور اگر کھنڈے ہوئے پنجاب اور بنگال میں ہندو برادری کی جھولی بھری گئی تو وہ اسی کی تائید کر دیں گے۔بہر حال ان کی حالت اب تک گومگو کی سی ہے باقی کانگرس فیصلہ کر چکی ہے کہ پاکستان کا ہو ا تجویز کرنے والوں کیلئے تقسیم بنگال اور تقسیم پنجاب کے دو ہؤے پیش کر دئیے جائیں کہ مسلمان ڈر کر لوٹ آئیں۔اب مسلمان گومگو کی حالت میں ہے پنجاب کے اکثر مسلمان تو آنکھیں بند کر کے نعرے لگا رہے ہیں کہ ہم پنجاب کو تقسیم نہیں ہونے دیں گے۔بنگال والے ذرا غیر فوجی واقع ہوئے ہیں انہوں نے تو جھٹ سرت بوس اور ان کے ساتھیوں کی دست بوسی شروع کر دی ہے اور ایک