انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 157 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 157

انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۵۷ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے تمام اہم واقعات اب جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت قائم ہو چکی ہے یہی لوگ معز زا اور مکرم سمجھے جانے کے حق دار ہیں نہ کہ ہم۔وہ کہنے لگے اب ہماری اس غلطی کا کوئی علاج بھی ہو سکتا ہے یا نہیں؟ وہ رئیس کہنے لگا اس کے متعلق حضرت عمر سے ہی پوچھنا چاہئے چنانچہ یہ لوگ دوبارہ حضرت عمرؓ کے پاس گئے اور عرض کیا کہ ہم آپ سے ایک بات کرنا چاہتے ہیں۔حضرت عمرؓ نے فرمایا میں آپ لوگوں کی بات کو سمجھ گیا ہوں مگر مجھے افسوس ہے کہ جو سلوک میں نے آپ کے ساتھ کیا ہے اس کے کرنے کے لئے میں مجبور تھا یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ جو لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں معزز تھے میں آپ کا غلام ہو کر انہیں مکرم اور معزز نہ سمجھتا۔پس میں نے آپ لوگوں کے ساتھ جو کچھ کیا وہ مجبور ہو کر کیا ہے۔وہ کہنے لگے ہم بھی اس بات کو سمجھ چکے ہیں مگر آپ یہ بتائیں کہ کیا ہماری اور ہمارے باپ دادوں کی اس غلطی کا ازالہ کسی طرح ہو سکتا ہے اور کیا اس بد نما داغ کو کسی طرح دور کیا جا سکتا ہے؟ یہ سن کر حضرت عمرؓ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور آپ رقت کی وجہ سے زبان سے تو ان کو کوئی جواب نہ دے سکے مگر ہاتھ اُٹھا کر شمال کی طرف اشارہ کر دیا جہاں اُن دنوں عیسائیوں سے مسلمانوں کی جنگ ہو رہی تھی۔آپ کے اشارہ کا مطلب یہ تھا کہ تم لوگ اب اسلامی جنگوں میں شامل ہو کر دشمن کے مقابلہ میں نکلو اور اپنے خون بہا کر اس داغ کو دور کرو۔چنانچہ تاریخوں میں آتا ہے کہ وہ رؤساء اس مجلس سے اٹھتے ہی اپنی اپنی سواریوں پر سوار ہو کر شام کی طرف چلے گئے اور ان میں سے ایک بھی زندہ واپس نہ لوٹا۔۲۴ غرض غلاموں کو اسلام میں بڑا مقام حاصل ہوا اور اس نے انہیں عزت اور شرف کے ایک بہت بڑے مینار پر کھڑا کر دیا۔ابوسفیان جب ایمان لایا اور مدینہ میں گیا تو اپنی ریاست کے غرور میں اس نے بعض ناز یبا باتیں ایک مجلس میں کہہ دیں جس پر مدینہ کے لوگوں نے جن میں بعض غلام بھی تھے ابوسفیان کے خلاف کچھ باتیں کہیں۔جب یہ باتیں ہو رہی تھیں تو حضرت ابو بکر کہیں پاس سے گزر رہے تھے وہ باتیں سن کر کھڑے ہو گئے اور ان لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا تم لوگ جانتے نہیں یہ شخص ( ابوسفیان ) مکہ کا بہت بڑا رئیس ہے۔اس کے بعد اس خیال سے کہ مدینہ والوں کی باتوں کی وجہ سے ابوسفیان کی دل شکنی نہ ہو اور یہ باتیں سن کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی