انوارالعلوم (جلد 19) — Page xviii
انوار العلوم جلد ۱۹ تعارف کنند یہ قانون پاس کر دیں کہ پاکستان کے علاقے میں مسلمانوں کیلئے قرآن اور سنت کے مطابق قانون بنائے جائیں گے ان کے خلاف قانون بنانا جائز نہیں ہوگا تو گو اساس حکومت گلی طور پر اسلامی نہیں ہوگا کیونکہ وہ ہو نہیں سکتا مگر حکومت کا طریق عمل اسلامی ہو جائے گا اور مسلمانوں کے متعلق اس کا قانون بھی اسلامی ہو جائے گا اور اسی کا تقاضا اسلام کرتا ہے۔اسلام ہر گز یہ نہیں کہتا کہ ہندو اور عیسائی اور یہودی سے بھی اسلام پر عمل کروایا جائے بلکہ وہ بالکل اس کے خلاف کہتا ہے۔“ (۱۲) قیام پاکستان اور ہماری ذمہ داریاں قیام پاکستان کے بعد حضرت مصلح موعود نے لاہور، کراچی، سیالکوٹ ، جہلم ، نوشہرہ، مردان اور پشاور میں استحکام پاکستان کے موضوع پر متعد دلیکچر ارشاد فرمائے جن میں مسلمانوں کو ان کے فرائض اور ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی تھی۔چنانچہ زیر نظر لیکچر بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔حضور نے مؤرخہ ۱۸ / مارچ ۱۹۴۸ء کو تھیوسافیکل ہال کراچی میں لجنہ اماءاللہ کراچی کے زیر انتظام یہ لیکچر ارشاد فرمایا تھا۔جس میں چھ صد سے زائد احمدی و غیر احمدی خواتین نے شمولیت کی۔لیکچر کا بنیادی نقطہ خواتین کو ان کے فرائض کی ادائیگی کی طرف متوجہ کرنا اور انہیں قربانی اور ایثار کے لئے سرگرم عمل کرنا تھا کیونکہ کوئی قوم عورتوں کے تعاون کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی۔اس تقریر میں حضور نے درج ذیل دیگر مضامین پر روشنی ڈالتے ہوئے خواتین کو اُن کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔ا۔یقین کامل کامیابی کا ذریعہ بنتا ہے۔۲۔دنیاوی امور دین کے تابع ہونے چاہئیں۔اصل زندگی وہی ہے جو شریعت کے قوانین کے تابع گزاری جائے۔۔اُخروی زندگی برحق ہے اور اصل زندگی اُخروی ہی ہے۔۴۔سورۃ الکوثر کی تفسیر کرتے ہوئے عورتوں کو عبادت کرنے اور خدا کی راہ میں قربانیاں