انوارالعلوم (جلد 19) — Page 150
انوار العلوم جلد ۱۹ ܬܙ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے تمام اہم واقعات محمد (ﷺ) اپنی تعلیم کو نہیں چھوڑتا یا اُس کی قوم اُسے ہمارے حوالے نہیں کر دیتی ہم اس مقاطعہ کو برقرار رکھیں گے۔دوسری طرف یہ ضد تھی اور اس کو ضد نہیں بلکہ استقلال کہنا چاہئے کہ چاہے ہمارے ساتھ کتنا ہی بُرا سلوک کیوں نہ روا رکھا جائے ہم ان کے مطالبہ کو تسلیم نہیں کر سکتے۔گویا ایک طرف راج ہٹ تھی اور دوسری طرف دین ہٹ تھی اور یہ بٹ کی دونوں قسمیں آپس میں مقابلہ کے لئے تکی ہوئی تھیں۔کفر چاہتا تھا کہ اسلام پر غالب آجائے اور اسلام چاہتا تھا کہ کفر کو کھا جائے۔شعب ابی طالب میں محصور ہونے کے ایام میں محصور ہونے والوں کو جو جو تکلیفیں اُٹھانی پڑیں ان کا حال پڑھ کر بدن پر لرزہ آ جاتا ہے۔صحابہ کہتے ہیں کہ بعض اوقات انہوں نے غذا نہ ہونے کی وجہ سے جنگلی جانوروں کی طرح درختوں کے پتے کھا کھا کر گزارہ کیا اور بعض نے سوکھے ہوئے چھڑے کو پانی میں صاف اور نرم کر کے بھون کر کھا لیا۔چھوٹے چھوٹے بچوں کی یہ حالت ہوتی تھی کہ بھوک کی وجہ سے ان کے رونے اور چیخنے کی آواز میں دور دور تک سنائی دیتی تھیں اور یہ تکلیف کوئی ہفتہ دو ہفتہ یا مہینہ دو مہینہ کے لئے نہ تھی بلکہ ایک لمبے عرصہ کے لئے تھی اور حالت یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ صحابہ کہتے ہیں بجائے پاخانہ کے ہم مینگنیاں کرتے تھے مگر دونوں فریق اپنی اپنی ہٹ پر قائم تھے۔ایک طرف یہ ضد تھی کہ اسلام ہمارے سامنے سرنگوں ہو جائے اور دوسری طرف استقلال کا یہ عالم تھا کہ وہ کہتے تھے کہ چاہے اس رستہ میں ہماری جانیں بھی کیوں نہ چلی جائیں ہم اپنے منصب کو ترک نہیں کر سکتے۔اب پھر اللہ تعالیٰ نے اس معاملہ میں دخل دیا اور وہ اس طرح کہ قریش کے اندر بعض نرم دل اور شریف الطبع لوگ بھی تھے جو اس ظالمانہ معاہدہ کو دیکھ دیکھ کر دل ہی دل میں کڑھتے تھے مگر وہ قوم کے مقابلہ کی تاب نہ رکھتے تھے۔آخر جب انہوں نے دیکھا کہ ظلم حد سے بڑھ رہا ہے تو ان میں سے ایک نوجوان نے دلیری کی اور جرات سے کام لیتے ہوئے چار پانچ اور نو جوانوں کو اپنے ساتھ لیا اور کہا یہ ظلم اب برداشت سے باہر ہوا جا تا ہے کیا اس سے بڑھ کر بھی ظلم کی کوئی حد ہوسکتی ہے کہ ہم لوگ تو یہاں آرام سے زندگی بسر کر رہے ہیں اور مسلمان بے چارے اور ان کے ساتھی اڑھائی سال سے بے آب و دانہ پڑے ہیں اور کوئی ان کا پُرسانِ حال نہیں۔یہ کہہ کر وہ گئے اور معاہدہ کو جو