انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 149 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 149

انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۴۹ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے تمام اہم واقعات صلى الله سلوک کرو اب ہم محمد ( ﷺ ) کو اسی میدان میں لائے ہیں اس لئے نہیں کہ جو سلوک تم چاہو اُس کے ساتھ سلوک کرو بلکہ اس لئے کہ محمد ﷺ جو سلوک چاہے تمہارے ساتھ کرے۔تم تو محمد رسول اللہ کو اس لئے میدان میں مانگ رہے تھے کہ تم اس کے ساتھ جو چاہو وہ سلوک کرسکو اور ہم محمد ﷺ کا اس میدان میں لے بھی آئے ہیں مگر اس لئے نہیں کہ تم جو چاہو اس کے ساتھ سلوک کرو بلکہ اس لئے کہ وہ جو چاہے تمہارے ساتھ سلوک کرے۔غرض کفار مکہ کے مطالبہ کے مقابلہ میں پہلے تو اللہ تعالیٰ نے یہ معجزہ دکھایا کہ انہی مطالبہ کرنے والوں کے ساتھیوں اور شدید ترین دشمنوں میں سے کچھ لوگ الگ ہو گئے اور انہوں نے اعلان کیا کہ ہم محمد کو مطالبہ کرنے والوں کے سپرد نہیں کریں گے اور یہ کہنے والے وہی دشمن تھے جو ہر روز رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیا کرتے تھے اور آپ پر پتھراؤ کیا کرتے تھے اور دوسرا معجزہ اللہ تعالیٰ نے یہ دکھایا کہ وہ آپ کو اسی میدان میں لایا جہاں بیٹھ کر ائمتہ الکفر نے آپ کے خلاف میٹنگ کی تھی اور ابو طالب سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ محمد ﷺ کو ان کے حوالے کر دیں مگر اس حالت میں کہ آپ کے ساتھ وہ سلوک نہ ہو جو مکہ والے آپ کے ساتھ کرنا چاہیں بلکہ مکہ والوں کے ساتھ وہ سلوک ہو جو آپ ان کے ساتھ کرنا چاہیں۔غرض جب ابوطالب نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالبہ کرنے والے کفار مکہ کو کہلا بھیجا کہ میں اور میری قوم محمد کو تمہارے سپرد نہیں کر سکتے اس لئے تم لوگ جو چاہو ہمارے ساتھ کرو ہم اس کے مقابلہ کے لئے تیار ہیں ، تو اس پر کفار مکہ نے ایک با قاعدہ معاہدہ لکھا کہ کوئی شخص بنو ہاشم اور بنو مطلب کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات نہیں رکھے گا، کوئی شخص ان کے ساتھ رشتہ نہیں کرے گا، کوئی شخص نہ ان کے پاس کچھ فروخت کرے گا اور کوئی شخص نہ ان سے کچھ خریدے گا اور نہ ہی کوئی شخص کھانے پینے کی کوئی چیز ان کے پاس جانے دے گا جب تک وہ لوگ محمد کو ہمارے حوالہ نہ کر دیں۔یہ معاہدہ با قاعدہ لکھ کر کعبہ کی دیوار کے ساتھ آویزاں کر دیا گیا۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور بنو ہاشم اور بنو مطلب کے تمام لوگ کیا مسلم اور کیا غیر مسلم شعب ابی طالب میں محصور ہو گئے اور شعب ابی طالب وہ جگہ تھی جو بنو ہاشم کا خاندانی درہ تھا اس میں وہ لوگ قیدیوں کی طرح نظر بند کر دیئے گئے اور مکہ کی عملی زندگی سے بالکل منقطع ہو گئے۔اب دونوں طرف ہی ضد تھی ایک طرف تو یہ ضد تھی کہ جب تک