انوارالعلوم (جلد 19) — Page 148
انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۴۸ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے تمام اہم واقعات نے بنو ہاشم اور بنو مطلب کو جمع کیا اور سارے حالات ان کے سامنے رکھ کر کہا اب قوم کی مخالفت حد سے بڑھتی جا رہی ہے اور رؤسائے قریش نے مجھے دھمکی دی ہے کہ اگر تم نے محمد (ﷺ) کا ساتھ نہ چھوڑا تو تمہارا مقاطعہ کر دیں گے اس لئے ہمیں محمد (ﷺ) کی حفاظت کرنی چاہئے۔ابو طالب کی اس تحریک پر سوائے ابولہب کے بنو ہاشم اور بنومطلب کے باقی تمام لوگوں نے اتفاق کا اظہار کیا اور قومی غیرت کی وجہ سے وہ دوسروں کے مقابلہ پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اعانت کے لئے تیار ہو گئے اور خدا تعالیٰ کی حکمت کہ بنو ہاشم اور بنو مطلب کے وہ افراد بھی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت تکالیف دیا کرتے تھے انہوں نے بھی عہد کیا کہ ہم بہر حال محمد (ع) کا ساتھ دیں گے اور اس طرح پھر خدا تعالیٰ کا فضل نازل ہوا کہ صرف ابوطالب ہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے دوسرے دشمنوں کے منہ سے بھی کہلا دیا ہم محمد (ﷺ) کا ساتھ دیں گے چاہے قوم ہمارا مقاطعہ ہی کیوں نہ کر دے۔چنانچہ ابوطالب نے ان پیغام بھیجنے والے رؤساء کو کہلا بھیجا کہ جو تمہارے جی میں آئے ہمارے ساتھ کرو میں کبھی صلى الله محمد (ﷺ) کو تمہارے سپرد نہیں کر سکتا اور اس کی حمایت سے دست بردار نہیں ہو سکتا۔اُس وقت جبکہ کفار مکہ نے اپنی تمام کوششیں صرف کر دی تھیں اور اُس وقت جب کہ انہوں نے ہر قسم کی دھمکیاں دے کر ابو طالب کو آپ کی حمایت سے ہٹانا چاہا تھا خدا تعالیٰ عرش پر کہہ رہا تھا آليس الله بکاف عبده ال محمد الله تو دلگیر مت ہو۔اسے محمد با تو کوئی اندیشہ مت کر اور اے محمد اعتے تھے فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہم خود تیرے دشمنوں کو ان کے ارادوں میں خائب و خاسر کر دیں گے اور انہیں دشمنوں میں سے کچھ لوگ ایسے تیار کر دیں گے جو اپنے ساتھیوں کو چھوڑ کر تمہاری حمایت کا اعلان کریں گے۔پھر ایک عجیب بات ہے جس کی طرف پہلے کسی مؤرخ کا ذہن نہیں گیا صرف مجھے ہی خدا تعالیٰ نے سمجھائی ہے یہ ہے کہ وہی میدان جس میں کفار مکہ جمع ہوئے تھے اور اپنا نمائندہ بھیج کر ابو طالب سے مطالبہ کیا تھا کہ حمد (ﷺ) کو ہمارے حوالہ کر دو اسی میدان میں فتح مکہ کے وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی جھنڈے گاڑے اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے بتا دیا کہ اے کفار ! تم یہاں جمع ہو کر محمد ( ﷺ ) کو بلاتے تھے اس لئے کہ تم جو چاہو اُس کے ساتھ