انوارالعلوم (جلد 19) — Page 143
انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۴۳ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے تمام اہم واقعات ہاتھ میں لے کر کھڑے ہو گئے اور اُسی وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے لئے چل پڑے۔راستہ میں انہیں کوئی دوست مل گیا اُس نے جو انہیں غیظ و غضب کے عالم میں ننگی تلوار اپنے ہاتھ میں لئے جاتے دیکھا تو وہ راستہ روک کر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا عمر! آج کہاں کا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا محمد ( ﷺ ) کو قتل کرنے جا رہا ہوں اس نے بڑا فتنہ برپا کر رکھا ہے۔وہ ہنس کر کہنے لگا تم محمدکو تو قتل کرنے جا رہے ہو مگر تمہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ تمہارے اپنے گھر میں کیا ہو گیا ہے۔کہنے لگے کیا ہوا ہے؟ اس نے کہا تمہاری تو اپنی بہن اور بہنوئی دونوں مسلمان ہو چکے ہیں۔وہ یہ سن کر اور زیادہ برافروختہ ہوئے اور کہنے لگے اچھا پہلے انہی کو ٹھکانے لگا آتا ہوں۔چنانچہ وہ جلدی جلدی قدم اُٹھاتے اپنی بہن کے گھر پہنچے اور زور سے دروازہ کھٹکھٹایا۔دروازہ کو زنجیر لگی ہوئی تھی اور اندر ایک صحابی انہیں قرآن کریم پڑھا رہے تھے۔انہوں نے عمر کی آواز سنی تو اس صحابی کو کہیں چھپا دیا ، قرآن کریم کے اوراق بھی اندر رکھ دیئے اور خود دروازہ کھول دیا۔حضرت عمر جو قرآن کریم کی تلاوت کی آواز سن چکے تھے انہوں نے آتے ہی بڑے جوش سے کہا کہ میں نے سنا ہے تم دونوں صابی ہو گئے ہو اور تم نے محمد کی پیروی اختیار کر لی ہے؟ اور یہ کہتے ہی وہ اپنے بہنوئی پر جھپٹ پڑے اور انہیں مارنے لگ گئے۔بہن اسے برداشت نہ کر سکی اور وہ اپنے خاوند کو بچانے کے لئے آگے بڑھی۔حضرت عمرہ کا ارادہ اپنی بہن ا پر حملہ کرنے کا نہیں تھا مگر چونکہ وہ درمیان میں آگئیں اور وہ اُس وقت جوش کی حالت میں تھے اس لئے ایک مگا ان کی بہن کو بھی جالگا اور ان کی ناک سے خون بہنے لگا۔بہن کو زخمی دیکھ کر ان کے دل میں ندامت پیدا ہوئی کیونکہ عورت پر ہاتھ اُٹھا نا اہلِ عرب کے نزدیک ایک سخت معیوب فعل تھا۔چنانچہ انہوں نے اپنی خفت دور کرنے کے لئے کہا اچھا ان باتوں کو جانے دو اور مجھے بتاؤ کہ تم کیا پڑھ رہے تھے۔اُن کی بہن بھی اُس وقت جوش کی حالت میں تھیں اور پھر وہ بہن بھی عمر کی ہی تھیں کہنے لگیں تم نا پاک ہو جب تک تم غسل نہ کر لو میں تمہیں ان مقدس اوراق کو ہاتھ تک نہیں لگانے دوں گی۔چونکہ حضرت عمر اپنی بہن کی دل جوئی کرنا چاہتے تھے انہوں نے غسل کیا اور پھر کہا اب تو مجھے وہ اوراق دکھا دو۔اُن کی بہن نے وہ اوراق ان کے سامنے رکھ دیئے اور انہوں نے اُن کو پڑھنا شروع کر دیا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کے دل کے