انوارالعلوم (جلد 19) — Page 142
انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۴۲ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے تمام اہم واقعات دستبردار ہو گیا۔نجاشی نے اسی واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ خدا جس نے اُس وقت میری مدد کی تھی اب بھی میری مدد کرے گا تم جاؤ اور زور لگا لو۔غرض نجاشی نے اس وفد کو ناکام و نامراد واپس کر دیا۔اُس وقت جب کہ قریش مکہ کا وفد مسلمان مہاجرین کی واپسی کے لئے مطالبہ کرنے کے لئے حبشہ گیا تھا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل دھڑک رہا ہوگا کہ خدا جانے ان بیچارے وطن سے دُور اُفتادگان کے ساتھ نجاشی کیا سلوک کرتا ہے مگر اُس وقت اللہ تعالی عرش پر بیٹھا ہوا کہ رہا تھا آلیس الله بکاف عبده اے محمد اسے کیا میں اپنے بندے کے لئے کافی نہیں ہوں؟ فرموده ۲۹ جون ۱۹۴۷ء) میں آلیس اللهُ بِكَافٍ عَبْدَہ کی تفسیر بیان کر رہا تھا جس میں میں نے ہجرت حبشہ تک کے واقعات بیان کئے تھے۔ہجرت حبشہ کے بعد کفار مکہ کی طبائع میں بہت زیادہ مخالفت کا جوش پیدا ہو گیا کیونکہ وہ حبشہ سے ناکام و نامراد واپس لوٹ آئے تھے اور نجاشی نے ان کی بات ماننے سے انکار کر دیا تھا دراصل حبشہ سے نا کام واپسی نے ان کو ایک نہیں بلکہ دو وجوہات کی بناء پر مسلمانوں کی اور بھی زیادہ مخالفت کرنے پر آمادہ کر دیا تھا۔ایک وجہ تو اس کی دی تھی کہ مسلمانوں کا ایک حصہ بالکل بیچ کر ان کے ہاتھ سے نکل گیا تھا اور دوسری وجہ یہ تھی کہ ایک غیر ملک میں جا کر انہی مسلمانوں کے سامنے جن کو وہ لوگ ملک میں طرح طرح کی تکلیفیں دیا کرتے تھے انہیں خود ذلیل ہونا پڑا یہ ذلت کفار مکہ کے لئے کوئی معمولی بات نہ تھی اور اس کا برداشت کر لینا ان کے لئے آسان نہ تھا اس لئے انہوں نے فیصلہ کیا کہ اب مکہ کے مسلمانوں کو ہر ممکن طریق سے دکھ دیئے جائیں اور کوئی ظلم اب نہ رہ جائے جس سے ان کو دو چار نہ ہونا پڑے۔اس ضمن میں وہ لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے بھی منصوبے سوچنے لگے اور آپ کے قاتل کے لئے انعامات مقرر کئے جانے لگے۔ان انعامات مقرر کر نے والوں میں حضرت عمرؓ بھی تھے جو ابھی تک ایمان نہیں لائے تھے۔ایک دن کسی نے حضرت عمر سے کہا کہ تم دوسروں کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے لئے انعامات دیتے پھر تے ہو خود یہ کام کیوں نہیں کرتے جبکہ تم اتنے بہادر اور دلیر ہو۔یہ سن کر حضرت عمر کی رگ حمیت پھڑک اُٹھی اور وہ تلوار