انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xvi of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page xvi

انوار العلوم جلد ۱۹ تعارف کتب ہو یا چھوٹی بلکہ حکومتوں کا کوئی مجموعہ بھی ہمیں مستقل طور پر قادیان سے محروم نہیں کر سکتا اگر زمین ہمیں قادیان لے کر نہ دے گی تو ہمارے خدا کے فرشتے آسمان سے اُتریں گے اور ہمیں قادیان لے کر دیں گے۔“ (۱۰) تقریر جلسه سالانه ۲۸ دسمبر ۱۹۴۷ء ( غیر مطبوعه ) حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے یہ بصیرت افروز خطاب مؤرخہ ۲۸ / دسمبر ۱۹۴۷ء کے جلسہ سالانہ منعقدہ لاہور میں ارشاد فرمایا۔حضور کا یہ خطاب غیر مطبوعہ تھا جو اب پہلی دفعہ انوار العلوم کی اِس جلد میں شائع ہو رہا ہے۔حضور نے اس خطاب میں درج ذیل متفرق امور پر روشنی ڈالی ہے۔تفسیر کبیر کی اشاعت میں تاخیر کی وجوہات ۲۔قرآن کریم کے پہلے دس پاروں کا انگریزی ترجمہ مع تفسیری نوٹس و دریاچه کی اشاعت کی نوید سناتے ہوئے اس انگریزی تفسیر القرآن کے دیباچہ جو حضور نے خود تحریر فرمایا تھا کے دوسری بعض زبانوں میں شائع کرنے کے پروگرام پر روشنی ڈالی۔پارٹیشن کی وجہ سے احمدی طلباء و طالبات کا جو تعلیمی حرج ہوا اُس پر حضور نے تعلیم کی اہمیت وضرورت بیان فرمائی۔پارٹیشن کی وجہ سے پیدا ہونے والے فتنوں کے باعث جماعت کے چندے بہت متاثر ہوئے۔لہذا حضور نے افراد جماعت کو اپنے چندے بڑھانے کی طرف توجہ دلائی۔۵۔تقسیم ہندوستان کی وجہ سے لاکھوں احمدی ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آئے ان کی آبادکاری کے متعلق ہدایات فرمائیں۔۔حضور نے اپنے اس خطاب میں بعض غیر طبعی اور غیر دینی سکیموں پر محاکمہ کرتے ہوئے آبادی کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔اور از روئے قرآن آبادی کی کثرت کو ہی قومی ترقی کا ذریعہ قرار دیا کیونکہ مستقبل آدمیوں سے ہی وابستہ ہوتا ہے۔ے۔حضور نے اپنے اس خطاب میں پاکستان بننے کی اہمیت اور ہماری ذمہ داریوں پر بھی