انوارالعلوم (جلد 19) — Page xvi
انوار العلوم جلد ۱۹ ۹ تعارف کتب ہو یا چھوٹی بلکہ حکومتوں کا کوئی مجموعہ بھی ہمیں مستقل طور پر قادیان سے محروم نہیں کر سکتا اگر زمین ہمیں قادیان لے کر نہ دے گی تو ہمارے خدا کے فرشتے آسمان سے اُتریں گے اور ہمیں قادیان لے کر دیں گے ۔“ (۱۰) تقریر جلسه سالانه ۲۸ دسمبر ۱۹۴۷ء (غیر مطبوعہ ) حضرت خلیفة المسیح الثانی نے یہ بصیرت افروز یہ بصیرت افروز خطاب مؤرخہ ۲۸ / دسمبر ۱۹۴۷ء کے جلسہ سالانہ منعقدہ لاہور میں ارشاد فرمایا ۔ حضور کا یہ خطاب غیر مطبوعہ تھا جو اب پہلی دفعہ انوار العلوم کی اِس جلد میں شائع ہو رہا ہے ۔ حضور نے اس خطاب میں درج ذیل متفرق امور پر روشنی ڈالی ہے۔ ا۔ تفسیر کبیر کی اشاعت میں تاخیر کی وجوہات ۲۔ قرآن کریم کے پہلے دس پاروں کا انگریزی ترجمہ مع تفسیری نوٹس و دیباچہ کی اشاعت کی نوید سناتے ہوئے اس انگریزی تفسیر القرآن کے دیباچہ جو حضور نے خود تحریر فرمایا تھا کے دوسری بعض زبانوں میں شائع کرنے کے پروگرام پر روشنی ڈالی ۔ ۔ پارٹیشن کی وجہ سے احمدی طلباء و طالبات کا جو تعلیمی حرج ہوا اُس پر حضور نے تعلیم کی اہمیت وضرورت بیان فرمائی ۔ ۴۔ پارٹیشن کی وجہ سے پیدا ہونے والے فتنوں کے باعث جماعت کے چندے بہت متاثر ہوئے ۔ لہذا حضور نے افراد جماعت کو اپنے چندے بڑھانے کی طرف توجہ دلائی۔ ۵۔ تقسیم ہندوستان کی وجہ سے لاکھوں احمدی ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آئے ان کی آبادکاری کے متعلق ہدایات فرمائیں ۔ ۶۔ حضور نے اپنے اس خطاب میں بعض غیر طبعی اور غیر دینی سکیموں پر محاکمہ کرتے ہوئے آبادی کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اور از روئے قرآن آبادی کی کثرت کو ہی قومی پر اور ترقی کا ذریعہ قرار دیا کیونکہ مستقبل آدمیوں سے ہی وابستہ ہوتا ہے۔ ۷۔ حضور نے اپنے اس خطاب میں پاکستان بننے کی اہمیت اور ہماری ذمہ داریوں پر بھی