انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 132

انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۳۲ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے تمام اہم واقعات۔مرتبہ حاصل ہوا اور خدا تعالیٰ نے ان کو جو علم اور فہم عطا کیا وہ اس قد راعلیٰ تھا کہ آج تک یورپ کے مؤرخین اُن کی عقل سمجھ ، تقویٰ اور طہارت کی تعریف کرتے ہیں۔ایمان لانے کے وقت بے شک وہ بچہ تھے مگر اُن کے اندر قابلیت کا مادہ اور جو ہر موجود تھا جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نے اور بھی چار چاند لگا دیئے۔اسی طرح حضرت ابو بکر کو جوڑ تبہ حاصل ہوا اور انہوں نے اسلام کے لئے جو قربانیاں کیں ان سے اہلِ اسلام تو ایک طرف ، یورپین اور امریکی لوگ بھی واقف ہیں۔ہم نے دیکھا ہے کہ عیسائی مستشرقین اور دوسرے متعصب مؤرخین اپنی کتابوں میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تو کئی قسم کے حملے کر جاتے ہیں لیکن حضرت ابو بکر کے متعلق وہ کہتے ہیں کہ ابو بکر ایسا نہ تھا۔گویا جو دشمن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرنے سے نہیں رکتے وہ ابو بکر کو نشانہ نہیں بناتے۔پس حضرت ابوبکر کوئی معمولی درجہ کے انسان نہ تھے ان کے تقویٰ اور اخلاص کا یہ عالم تھا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بغیر کسی دلیل کے ایمان لے آئے تھے۔انہوں نے رسول کریم ﷺ کی زبانی صرف یہ معلوم ہونے پر کہ آپ پر خدا کے فرشتے اُترتے ہیں بغیر کسی حیل و حجت کے آپ کے دعوی کی تصدیق کی اور بغیر کسی وقفہ کے آپ پر ایمان لے آئے۔وہ اپنے اندر ایسی قابلیت اور ایسے جو ہر رکھتے تھے جن کی مثال دنیا کی تاریخ پیش ہی نہیں کر سکتی۔پس یہ ثبوت ہے آليْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَة کی سچائی کا۔اب ایک اور مرحلہ شروع ہوتا ہے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغ اسلام شروع کی تو کفار مکہ نے آپ کی سخت مخالفت کی اور انہوں نے سمجھا کہ محمد ﷺ کی باتیں صرف چند دن کی باتیں ہیں جب لوگ اس کے پیچھے ہی نہ چلیں گے تو یہ خود بخود درست ہو جائے گا۔کوئی کہتا تھا اِس کا دماغ خراب ہو گیا ہے کچھ دنوں کے بعد جب اس کا دماغ ٹھیک ہو جائے گا تو یہ خودہی کہہ دے گا کہ میں غلطی کر رہا تھا مگر جب انہوں نے دیکھا کہ ان کے دوست اور ان کے رشتہ دار خود ایک ایک، دو دو کر کے ان کو چھوڑ کر محمد رسول اللہ پر ایمان لا رہے ہیں اور ان میں ایسے لوگ جنہیں مکہ کا کلیجہ کہنا بجا ہوگا اُن کو چھوڑ کر آپ کے ساتھ ہو رہے ہیں اور بڑے بڑے صلى الله۔خاندانوں کے نوجوان جن پر ان لوگوں کو بہت بڑی امیدیں تھیں اور وہ کہتے تھے کہ یہ محمد و یا لیلی