انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 128 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 128

انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۲۸ الله رسول کریم ﷺ کی زندگی کے تمام اہم واقعات پر بیٹھا کہہ رہا تھا تھا اليْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ اے محمد ﷺ! صلى الله تجھے خدیجہ کے ساتھ پیار تھا اور محبت تھی اور تیرے دل میں یہ خیال تھا کہ کہیں خدیجہ تجھے چھوڑ نہ دے اور تو اس فکر میں تھا کہ خدیجہ مجھ پر ایمان لاتی ہے یا نہیں مگر کیا ہم نے تیری ضرورت کو پورا کیا یا نہ کیا ؟ اس کے بعد جب آپ کے گھر میں خدا تعالیٰ کی وحی کے متعلق باتیں ہوئیں تو زید بن حارث غلام جو آپ کے گھر میں رہتا تھا آگے بڑھا اور اس نے کہا یا رَسُولَ الله! میں آپ پر ایمان لاتا ہوں ۔ اس کے بعد حضرت علیؓ جن کی عمر اس وقت گیارہ سال کی تھی اور وہ ابھی بالکل بچہ ہی تھے اور وہ دروازہ کے ساتھ کھڑے ہو کر اس گفتگو کو سن رہے تھے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت خدیجہ کے درمیان درمیان ہو ہو رہی رہی تھی تھی ، ، جس جب انہوں نے نے یہ یہ سنا کہ خدا کا پیغام آیا آیا ۔ ہے تو وہ علی جو ایک ہونہار اور ہوشیار بچہ تھا، وہ علیؓ جس کے اندر نیکی تھی ، وہ علی جس کے نیکی کے جذبات جوش مارتے رہتے تھے مگر نشو و نما نہ پاسکے تھے ، وہ علی جس کے احساسات بہت بلند تھے مگر ابھی تک سینے کے اندر دبے ہوئے تھے اور وہ علی جس کے اندر اللہ تعالیٰ نے قبولیت کا مادہ ودیعت کیا تھا مگر ابھی تک اسے کوئی موقع نہ مل سکا تھا اس نے جب دیکھا کہ اب میرے جذبات کے اُبھرنے کا وقت آ گیا ہے ، اس نے جب دیکھا کہ اب میرے احساسات کے نشوونما کا موقع آ گیا ہے ، اس نے جب دیکھا کہ اب خدا مجھے اپنی طرف بلا رہا ہے تو وہ بچہ سا علی اپنے درد سے معمور سینے کے ساتھ لجاتا اور شرماتا ہوا آگے بڑھا اور اُس نے عرض کیا کہ يَا رَسُولَ الله! جس بات پر میری بچی ایمان لائی ہے اور جس بات پر زید ایمان لایا ہے اُس پر میں بھی ایمان لاتا ہوں ۔ اس کے آگے چل کر دوستوں کا مقام آتا ہے ۔ آپ کے قریب ترین دوست حضرت ابو بکر تھے آپ کے باقی دوست اگر اس موقع پر آپ کو چھوڑ کر جاتے تو آپ کو ذرا بھی قلق نہ ہو سکتا تھا لیکن اگر حضرت ابوبکر آپ کو چھوڑ جاتے تو آپ کو انتہائی رنج اور دُکھ ہوتا کیونکہ ان کے اندر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نیکی اور تقویٰ کی بُو آتی تھی اس لئے آپ کے دل میں بہت زیادہ احساس تھا کہ دیکھئے ابو بکر اس موقع پر کیا قدم اُٹھاتا ہے ۔ حضرت ابوبکر اس زمانہ میں پھیری کر کے سامان بیچا کرتے تھے اور جس دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی الہی کا اعلان فرمایا