انوارالعلوم (جلد 19) — Page 116
انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۱۶ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے تمام اہم واقعات کہا تھا ویسا ہی ہوا کہ وہ پتھر جسے معماروں نے رڈ کیا کونے کا سرا ہو گیا، آخر حلیمہ کو خیال آیا کہ میں صبح اس بچے کو اس لئے چھوڑ آئی تھی کہ وہ یتیم ہے اور پھر سارے شہر میں سے کسی نے اپنا بچہ مجھے نہ دیا اگر میں اب پھر اسی یتیم بچہ کے گھر جاؤں گی تو اس گھر والے کہیں گے تم ہمارے بچے کو چھوڑ کر گئی تھیں تمہیں بھی سارے شہر سے کوئی بچہ نہ ملا اس لئے وہ کچھ شرمائی ہوئی آمنہ کے گھر آئی اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے گئی مگر اس طرح کہ ادھر آپ کو حلیمہ کے ساتھ بھیجتے وقت آپ کی والدہ کو بھی خیال آیا کہ حلیمہ غریب عورت ہے اور اس کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے اُدھر حلیمہ اپنے دل میں کہہ رہی تھی کہ بچہ تو میں لے ہی چلی ہوں مگر مجھے اس کے پالنے کا انعام کہاں مل سکتا ہے لیکن حلیمہ بیان کرتی ہیں کہ جب میں اس بچے کو لے کر گھر پہنچی تو خدا کی قسم ! ہماری وہ بکریاں جن کا دودھ سوکھ چکا تھا اس بچے کی برکت سے ان بکریوں کے سُوکھے ہوئے تھنوں میں دودھ بھر گیا اور خدا تعالیٰ نے میرے گھر میں برکت بھر دی ہے برکت کا مطلب یہ تو نہیں کہ آسمان سے کوئی چیز گرتی ہے ہاں خدا تعالیٰ نے ان بکریوں کے معدے تیز کر دیئے اور وہ گھاس اچھا کھا لیتی تھیں اور دودھ زیادہ دینے لگ گئیں۔پس اللہ تعالیٰ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے اليس الله بکاف عبده کہ جب تمہیں پالنے کا زمانہ آیا تو ایک طرف دیہات کی دایہ عورتوں نے تمہیں رد کر دیا دوسری طرف تمہاری ماں نے دکھتے ہوئے دل کے ساتھ تمہیں ایک غریب دایہ کے سپرد کیا مگر دیکھو ہم نے تمہارے لئے انتظام کیا یا نہ کیا ؟ دوسال کے بعد جب رضاعت کی مدت پوری ہوئی تو دستور کے مطابق حلیمہ آپ کو لے کر مکہ میں آئی اور آمنہ سے جو کچھ ہو سکتا تھا انہوں نے حلیمہ کو دے دیا مگر حلیمہ کے دل میں آپ کے لئے اتنی محبت پیدا ہو چکی تھی کہ اس نے یہ اصرار آپ کی والدہ سے کہا کہ اس بچہ کو کچھ عرصہ اور میرے پاس رہنے دو چنانچہ وہ پھر آپ کو ساتھ لے کر خوش خوش واپس گھر چلی گئی۔جب آپ کی عمر چار سال کی ہوئی تو حلیمہ آپ کو لے کر مکہ میں آئی اور آپ کی والدہ کے سپر د کر گئی والدہ سے جو کچھ ہوسکتا تھا انہوں نے حلیمہ کو دیا اور جو کچھ اسے ملا وہ لے کر چلی گئی۔یوں تو حضرت عبدالمطلب بڑے قبیلہ کے آدمی تھے اور ان کا شمار بہت بڑے سرداروں میں ہوتا تھا مگر وہ اتنے زیادہ امیر