انوارالعلوم (جلد 19) — Page 115
انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۱۵ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے تمام اہم واقعات۔پانی کی بھی کمی تھی اور سبزیوں وغیرہ کی بھی کمی تھی اور جب تک مکہ کے لوگ بیرونجات میں جا کر نہ رہیں ان کی صحت اچھی نہیں رہ سکتی۔بیرونجات سے مکہ میں پھل اور سبزیاں وغیرہ تو پہنچ جاتی تھیں لیکن اگر باہر سے چیزیں چلی بھی جائیں تو بھی تازہ بتازہ پھلوں اور سبزیوں کا مل جانا جواثر رکھتا ہے وہ باہر سے آئی ہوئی چیزوں میں کہاں ہوتا ہے۔مکہ کے لوگوں میں یہ دستور تھا کہ وہ اپنے بچوں کو باہر کے گاؤں میں ۵ یا ۶ ماہ کی عمر میں بھجوا دیتے تھے اور جب وہ ۸-۹ سال کی عمر کے ہوتے تھے تو انہیں واپس لے آتے تھے اور بعض لوگ تو سال دو سال کے بعد ہی واپس لے آتے تھے اور بعض ۸-۹ سال کا ہو چکنے پر لے آتے۔اس سے یہ فائدہ ہوتا کہ ان کی صحت بھی اچھی ہو جاتی اور ان بچوں کی زبان بھی شہر والوں کی نسبت زیادہ صاف ہو جاتی کیونکہ بدویوں کی زبان شہر والوں کی نسبت زیادہ صاف تھی اور شہریوں کی زبان باہر سے قبائل آتے رہنے کی وجہ سے مخلوط سی ہو جاتی تھی۔غرض مکہ میں ہر چھٹے مہینے باہر کے گاؤں کی عورتیں آتیں اور دودھ پیتے بچوں کو پالنے کے لئے ساتھ لے جاتیں وہ شہر میں چکر لگاتی تھیں اور جس کسی نے اپنا بچہ ان کے حوالہ کرنا ہوتا کر دیتا تھا۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے کچھ عرصہ بعد آس پاس کے دیہات کی عورتیں شہر میں آئیں حضرت عبدالمطلب کا گھر بہت مشہور تھا اور ایک قبیلہ کا سردار ہونے کی وجہ سے ان کی بہت زیادہ شہرت تھی اس لئے دیہات سے آنے والی ان دایہ عورتوں میں سے ہر ایک کی خواہش تھی کہ عبدالمطلب کے پوتے کو وہ اپنے ساتھ لے جائے مگر جب انہوں نے سنا کہ بچہ کا والد فوت ہو چکا ہے تو انہوں نے خیال کیا کہ اس یتیم بچہ کو پالنے کے بدلہ میں ہمیں کون انعام دے گا۔چنانچہ یکے بعد دیگرے کئی عورتیں آپ کی والدہ کے گھر آئیں مگر یہ معلوم ہونے پر کہ اس بچے کا والد فوت ہو چکا ہے واپس چلی گئیں اور کسی نے اس یتیم بچہ کو اپنے ساتھ لے جانا نہ چاہا۔پانچویں چھٹے نمبر پر حلیمہ آئی مگر اس نے بھی جب بچہ کے یتیم ہونے کے متعلق سنا تو اس بہانہ سے کہ میں پھر آتی ہوں چلی گئی مگر جس طرح اس بچہ کا گھر غریب تھا اسی طرح حلیمہ بھی غریب تھی وہ سارا دن مکہ کے شہر میں بچوں والوں کے گھروں میں پھری لیکن کسی نے اُس کو منہ نہ لگایا گویا ایک طرف ان ساری دایہ عورتوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کورڈ کر دیا اور دوسری طرف سارے بچوں والوں نے حلیمہ کو رڈ کر دیا اور جس طرح یسعیا نے