انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 102 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 102

انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۰۲ سکھ قوم کے نام دردمندانہ اپیل بالکل جاتی رہے گی اور کوئی مالی امداد وہ اسے نہ دیں گے اور مشرقی علاقہ کا سکھ جو پہلے ہی بہت غریب ہے اپنی تعلیمی اور تہذیبی انجمنوں کو چلا نہ سکے گا۔سکے گی۔دوسرے اسے یہ نقصان ہوگا کہ سکھ قوم مشرقی حصہ میں اقتصادی طور پر اپنا سر اونچا نہ رکھ تیسرے اس سے یہ نقص پیدا ہوگا کہ ہوشیار پور، فیروز پور ، جالندھر اور لدھیانہ کے سکھ پہلے سے بھی زیادہ غیر ملکوں کی طرف جانے کے لئے مجبور ہوں گے اور مشرقی پنجاب کے سکھوں کی آبادی روز بروز گرتی چلی جائے گی اور شاید چند سال میں ہی مشرقی پنجاب میں بھی سکھ چودہ فیصدی پر ہی آجائیں۔پانچویں اس امر کا بھی خطرہ ہے کہ اس بٹوارے کی وجہ سے مغربی پنجاب کی حکومت یہ فیصلہ کرے کہ وہ زمین جو مشرقی پنجاب کے لوگوں کو مغربی پنجاب میں جنگی خدمات کی وجہ سے دی گئی ہے وہ اس بناء پر ضبط کر لی جائے کہ اب ان خدمات کا صلہ دینا نئے ہند و مرکز کے ذمہ ہے۔کوئی وجہ نہیں کہ جب وہ لوگ الگ ہو گئے ہیں تو اس خدمت کا صلہ جو در حقیقت مرکزی خدمت تھی وہ صو بہ دے جس کا وہ شخص سیاسی باشندہ بھی نہیں ہے۔زمیندار نقصان کے علاوہ کہ سکھوں کی دو تہائی جائیدا دمغربی پنجاب میں رہ جائے گی ایک اور بہت بڑا خطرہ بھی ہے اور وہ یہ کہ جو سکھ تجارت کرتے ہیں ان میں سے اکثر حصہ کی تجارت مغربی پنجاب سے وابستہ ہے سوائے سردار بلد یو سنگھ صاحب کے کہ جن کی تجارت ہندو علاقہ سے وابستہ ہے باقی سب سکھ تجارت مسلمان علاقہ سے وابستہ ہے۔سکھوں کی تجارت جیسا کہ سب لوگ جانتے ہیں پنجاب میں راولپنڈی ،کوئٹہ ، جہلم اور بلوچستان سے وابستہ ہے اور تجارت کی ترقی کے لئے آبادی کی مدد بھی ضروری ہوتی ہے۔جب سکھوں کی دلچپسی مغربی پنجاب اور اسلامی علاقوں سے کم ہوگی تو لازماً اس تجارت کو بھی نقصان پہنچے گا سوائے سردار بلد یو سنگھ صاحب کے جن کی تجارت بہار سے وابستہ ہے اور کونسا بڑا سکھ تاجر ہے جو مشرقی پنجاب یا ہندوستان میں وسیع تجارت رکھتا ہو۔ساری کشمیر کی تجارت جو راولپنڈی کے راستہ سے ہوتی ہے یا جہلم کے ذریعہ سے ہوتی ہے سکھوں کے پاس ہے۔ایران سے آنے والا مال اکثر سکھوں کے