انوارالعلوم (جلد 19) — Page 101
انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۰۱ سکھ قوم کے نام دردمندانہ اپیل فیصدی حق ملنا چاہئے۔ گو سکھ پرانے انتظام پر خوش نہ تھے اسی وجہ سے انہوں نے صوبہ تقسیم کروایا نے صوبہ ہے اس لئے انہیں ہندوؤں سے تیس فیصدی ملے تو وہ تب دنیا کو کہہ سکتے ہیں کہ دیکھو پرانے پنجاب سے ہم زیادہ فائدہ میں رہے ہیں ۔ مسلمانوں نے ہمیں ڈیوڑھا حق دیا تھا اب ہندوؤں نے اپنے حق سے کاٹ کر ہمیں پونے دو گنا دے دیا ہے اس لئے ہمارا بٹوارہ پر زور دینا درست تھا لیکن اگر ایسا نہ ہو اور ہندوؤں نے اپنے حصہ سے اُس نسبت سے بھی سکھوں کو نہ دیا جس نسبت سے پرانے پنجاب میں مسلمانوں نے سکھوں کو دیا تھا تو سکھ قوم لازماً گھاٹے میں رہے گی۔ نئے صوبہ میں اٹھارہ فیصدی سکھ ہوں گے، بتیس فیصدی مسلمان اور پچاس فیصدی ہندو۔ اگر ہندو اسی نسبت سے اپنا حق سکھوں کو دیں جس طرح مسلمانوں نے پنجاب میں دیا تھا تو سکھوں کو چھبیس فیصدی اور حق مل جائے گا اور نمائندگی کی یہ شکل ہوگی کہ بتیس فیصدی مسلمان اور چھبیس فیصدی سکھ اور بیالیس فیصدی ہندو ۔ لیکن اول تو ایسا کوئی وعدہ ہندوؤں نے سکھوں سے اب تک نہیں کیا وہ غالباً یہ کوشش کریں گے کہ مسلمانوں کے حق سے سکھوں کو دینا چاہیں لیکن سکھوں کو یا د رکھنا چاہئے کہ اس سے فتنہ کا دروازہ کھلے گا۔ جب مسلمان زیادہ تھے انہوں نے اپنے حصہ سے سکھوں کو دیا ، اب ہندؤ زیادہ ہیں اب انہیں اپنے حصہ سے سکھوں کو دینا چاہئے ورنہ تعلقات نا خوشگوار ہو جائیں گے ۔ فرض کرو کہ ہندو سکھوں کو اپنی نیابت کے حق سے دے بھی دیں جتنا انہیں مسلمانوں نے اپنے حق سے دیا ہوا تھا تو پھر بھی سکھ صاحبان کو ان امور پر غور کرنا چاہئے :۔ ا۔ تمام سکھ امراء منٹگمری ، لائل پور اور لاہور میں بستے ہیں اور اعدادوشمار سے معلوم ہوتا ہے کہ لائل پور، منٹگمری اور لاہور کے سکھ زمیندارہ کو ملا کر فی سکھ آٹھ ایکڑ کی ملکیت بنتی ہے لیکن لدھیانہ ہوشیار پور ، فیروز پور ، امرتسر کی سکھ ملکیت کے لحاظ سے ایک ایکڑ فی سکھ ملکیت ہوتی ہے کیونکہ لدھیانہ اور جالندھر میں سکھوں کی ملکیت بہت کم ہے اور اسی وجہ سے وہ زیادہ تر مزدوری پیشہ اور فوجی ملازم ہیں یا ملک سے باہر جا کر غیر ممالک میں کمائی کرتے ہیں اس وجہ سے اگر یہ تقسیم قائم رہی تو اس کا ایک نتیجہ یہ نکلے گا کہ مالدار سکھ مغربی پنجاب سے جاملیں گے اور اگر مسلمانوں کا رویہ ان سے اچھا رہا اور خدا کرے اچھا رہے تو ان کی ہمدردی مشرقی سکھ سے