انوارالعلوم (جلد 19) — Page 92
انوار العلوم جلد ۱۹ ۹۲ قومی ترقی کے دوا ہم اصول تجربہ کیا ہے۔حضرت خلیفہ اول کے خسر منشی احمد جان صاحب مرحوم کو اس علم کی بڑی مشق تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک دفعہ لدھیانہ میں ایک دعوت سے واپس تشریف لا رہے تھے اور منشی احمد جان صاحب بھی ساتھ تھے کہ آپ نے ان سے پوچھا کہ رتر چھتر والوں کی مریدی میں بارہ سال رہ کر اور مختلف قسم کی ریاضات کر کے آپ نے کیا حاصل کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا اب مجھ میں اتنی طاقت آ گئی ہے کہ فلاں آدمی جو آ رہا ہے اگر میں اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالوں اور توجہ کروں تو وہ وہیں تڑپ کر گر جائے۔یہ سن کر آپ مسکرائے اور اپنی سوٹی کو دو چار دفعہ زمین پر آہستہ آہستہ مارا ( آپ ہمیشہ اپنے ہاتھ میں سوٹی رکھتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ سر پر پگڑی باندھنا اور ہاتھ میں سوٹی رکھنا یہ ہماری خاندانی عادت ہے ہم نے بھی جب سے یہ بات سنی اُسی دن سے سوئی ہاتھ میں رکھنی شروع کر دی مگر اب ہمارے بچے اس پر عمل نہیں کرتے معلوم نہیں کیا وجہ ہے میں نے تو جس دن یہ بات سنی تھی اُسی دن اس پر عمل شروع کر دیا تھا ) آپ نے جوش کے ساتھ دو چار دفعہ سوئٹی کے ذریعہ زمین کو کریدا اور پھر فرمایا میاں صاحب! اگر وہ شخص آپ کی توجہ سے گر گیا تو اُس کو یا دین کو کیا فائدہ پہنچے گا؟ کیونکہ کسی کام کی دو ہی غرضیں ہوتی ہیں یا تو یہ غرض ہوتی ہے کہ اُس کو فائدہ پہنچے جس کے لئے وہ کام کیا جائے اور یا پھر دین کو فائدہ پہنچے۔یہ سننا تھا کہ میاں احمد جان صاحب کی یہ حالت ہوئی کہ جیسے کسی پر بجلی گر پڑتی ہے اور انہوں نے وہیں کھڑے کھڑے کہا حضور! میں آج سے تو بہ کرتا ہوں کہ کبھی یہ کام نہیں کروں گا۔انہوں نے بارہ سال کی متواتر محنت کے بعد یہ علم حاصل کیا تھا مگر یکدم اس سے تو بہ کر لی۔میں نے خود اس علم کے تجارب کئے ہیں۔خلافت کے ابتدائی زمانہ کی بات ہے کہ مجھے اس کے تجربہ کا شوق ہوا۔چنانچہ میں نے صرف ایک یا دو دن کی پریکٹس سے اسے سیکھ لیا۔پس دوسری چیز جو قومی ترقی کے لئے ضروری ہوتی ہے وہ قوت ارادی ہے اور قوت ارادی وہ نہیں جو مسمریزم والوں کی ہوتی ہے بلکہ ایمان کی قوت ارادی۔مسمریزم والوں کی قوتِ ارادی ایمان کی قوتِ ارادی کے مقابلہ میں کیا حیثیت رکھتی ہے۔مسمریزم کی قوتِ ارادی ایمان کی قوت ارادی کے مقابلہ میں ٹھہر نہیں سکتی۔خدا تعالیٰ کی دی ہوئی قوت ارادی اور انسان