انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 89

انوار العلوم جلد ۱۹ ۸۹ قومی ترقی کے دوا ہم اصول ایک ایسی بستی میں جس کو دس پندرہ میل دور کے لوگ بھی نہیں جانتے ، ایک ایسے خاندان میں خاندان میں جس کی حیثیت کمزور ہو چکی تھی ایک شخص کو خدا تعالیٰ چلتا ہے اور کہتا ہے اب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کے پورا ہونے کا وقت آ گیا ہے اُٹھ اور کھڑا ہو جا اور اپنا کام شروع کر دے۔ اب دیکھو کجا یہ کہ ایک شخص کی نگرانی کرنا ، اُس کو تعلیم دلانا اور اُس پر ہزاروں روپیہ خرچ کرد بینا مگر بالآخر اس کا خدا سے منکر ہو جانا اور کجا یہ کہ مخالف حالات کی موجودگی میں ایک رات خدا تعالیٰ ایک شخص کو پکڑتا ہے اور فرماتا ہے اُٹھ کہ تو ہی وہ موعود ہے جس کی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی ۔ سے ہر و پس انسانی مقصد خدائی مقصد کے سامنے بالکل بیچ ہوتا ہے۔ انسانوں کے مقاصد بدل جاتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کے مقاصد نہیں بدلتے ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خدا تعالیٰ سے تعلق رکھنے والے لوگ سب کے سب یکساں نہیں ہوتے بعض لوگ تو ایسے ہوتے ہیں کہ وہ ہر جہت ہر قول اور ہر فعل ۔ سے خدا نما ، رسول نما ، اور حقائق نما انما ، اور حقائق نما ہوتے ہیں اور وہ خدا اور رسول اور حقائق میں با بالکل محو ہو جاتے ہیں اور اُن کا قدم صرف ایک ہی طرف اُٹھتا ہے لیکن بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو دلائل کے ساتھ سچائی کو مان جاتے ہیں حالانکہ سچ کا ماننا اور چیز ہے اور سچ کا جذب ہو جانا اور چیز ہے ۔ مؤمن کے اندر پیچ جذب ہو جاتا ہے اور غیر مؤمن کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے کہ سچ اس پر سے ایسے گزر جاتا ہے جیسے ہند و سخت سردی میں غسل کیا کرتے ہیں ۔ ہم نے خود کئی بار ہندوؤں کو فسل کرتے دیکھا ہے کہ وہ گڑوی سے اپنے اوپر پانی ڈالتے ہیں اور خود کود کر آگے ہو جاتے ہیں اور پانی پیچھے جا گرتا ہے دو چار چھنٹے ان کے بدن پر پانی کے پڑ گئے اور ان کا غسل ہو گیا ۔ ایک ہے کوئی کے ایام میں دریا پر کا پتا اور ایک لطیفہ مشہور ہے کہ کوئی ہندو سردی کے ایام میں دریا پر کا نپتا اور ٹھٹھرتا ہوا جا رہا تھا ایک طرف تو اُس کو غسل کی خواہش تھی اور دوسری طرف وہ سردی سے بھی ڈر رہا تھا۔ رستہ میں اس کو ایک اور پنڈت ملا جو دریا پر سے نہا کر واپس آ رہا تھا اُس نے پنڈت جی سے پوچھا سنائیے کیسے نہائے؟ اُس نے کہا کیا بتاؤں سخت سردی تھی اور پانی برف سے بھی ٹھنڈا تھا اس لئے میں نے یہ کیا کہ ایک کنکر اُٹھا کر دریا میں پھینکا اور کہا ” تو را شنان سومو را شنان‘ اُس نے سن کر کہا اچھا یہ