انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 87 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 87

انوار العلوم جلد ۱۹ ۸۷ قومی ترقی کے دوا ہم اصول اور اس کی قوم اور، پیشگوئی کرنے والے کا ملک اور ہے اور اس کا ملک اور ، پیشگوئی کرنے والے کا خاندان اور ہے اور اس کا خاندان اور ، پیشگوئی ہو جاتی ہے مگر پیشگوئی کے پورا ہونے کے کوئی بھی آثار نہیں ہیں۔ایک قوم چین کے ملک سے اُٹھتی ہے اور اُس کے افراد کے دل میں یہ جذ بہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم تمام دنیا پر پھیل جائیں وہ لوگ خدا کے منکر ہیں اور انبیاء کے منکر ہیں اور وہ سفید بھیڑیے کی پرستش کرتے ہیں وہ لوگ جنگلوں میں رہتے تھے اور ان کے بچوں کو بھیڑیئے اُٹھا کر لے جاتے تھے اس لئے وہ ان کو بہت زیادہ طاقت ور سمجھ کر ان کی پرستش کرتے تھے مگر ان کے اندر بیداری پیدا ہو جاتی ہے اور وہ دندناتے ہوئے اپنے ملک سے نکل کھڑے ہوتے ہیں ، وہ لوٹ اور تباہی مچاتے ہوئے ایک طرف یورپ تک پہنچ جاتے ہیں اور دوسری طرف بغداد تک۔بغداد کے گردو پیش وہ اتنی تباہی مچاتے ہیں کہ اٹھارہ لاکھ انسانوں کو تہہ تیغ کر دیتے ہیں۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے ہیں اس قوم میں سے ایک شخص ہوگا جو میرا مثیل ہو گا جو اسلام کے ایک دفعہ کمزور ہو جانے کے بعد دوبارہ اُس کو دنیا میں قائم کرے گا ، جو تو حید کا علمبر دار ہوگا اور دنیا کے کونے کونے اور گوشے گوشے میں خدا تعالیٰ کے نام ނ کو بلند کرے گا اور میرے لائے ہوئے مشن کو دوبارہ قائم کر دے گا۔پھر وہ قوم جو چین اُٹھی تھی بغداد میں بادشاہ ہو جاتی ہے اور مسلمانوں پر چالیس پچاس سال تک جابرانہ حکومت کرتی ہے اُس وقت وہ قوم خدا سے نا آشنا ہے، مذہب سے نا آشنا ہے اور اخلاق سے بے بہرہ ہے مگر آخر وہ قوم اسلام قبول کرتی ہے۔مگر ڈ نیوی طور پر اسی قوم سے ایک بادشاہ تیمور نا می اُٹھتا ہے اور دنیا میں تباہی اور خونریزی مچا دیتا ہے وہ آندھی کی طرح اُٹھتا ہے اور بگولے کی طرح ملکوں کے ملک اپنے ظلم و ستم کی لپیٹ میں لے لیتا ہے اور پھر فتح و ظفر کے پر چم اُڑا تا ہوا تیزی کے ساتھ بڑھتا ہے اور ہندوستان میں پہنچ جاتا ہے۔مگر اُس وقت تک بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے پورا ہونے کے کوئی نشانات ظاہر نہیں ہوتے۔پھر اسی خاندان کا ایک حصہ قادیان میں آکر رہائش پذیر ہوتا ہے جو دنیوی لحاظ سے بے شک وجاہت رکھتا ہے لیکن دینی لحاظ سے نہیں اور وہ خاندان ایسا ہی ہے جیسے عوام شرفاء ہوتے ہیں۔پیشگوئی کے پورا ہونے کا وقت نزدیک ہے لیکن اس کے پورا ہونے کے کوئی آثار نہیں پائے جاتے۔اس دوران