انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 85

انوار العلوم جلد ۱۹ پہلے ادھر لگایا اور پھر اُدھر لگا دیا۔ ۸۵ قومی ترقی کے دوا ہم اصول مسٹر اینی بسنٹ ایک بڑی لیڈ ر عورت تھی اور وہ یہ دعوی کرتی تھی کہ مجھے الہام ہوتا ہے وہ وہ خدا تعالیٰ کا وجود نہ مانتی تھی بلکہ کہتی تھی کہ انسانوں سے اوپر ایک بالا ہستی ہے جو ایک قسم کا مرکزی نقطہ ہے وہ ارواح کو باتیں بتاتی ہے اور ارواح آگے انسانوں تک ان باتوں کو پہنچاتی ہیں ۔ مسز اپنی بسنٹ نے مدراس کے دولڑکوں میں سے ایک کے متعلق کہا کہ اس پر خدا کا کلام نازل ہوگا اور یہ دنیا کی اصلاح کرے گا اور مسیح سے بھی بڑا ہوگا اور کہا میری شان یہ ہے کہ میں صرف اس اوتار کو تیار کرنے کے لئے پیدا ہوئی ہوں ۔ چنانچہ اس نے کچھ روپیہ اُن دونوں لڑکوں کے والدین کو دے کر وہ لڑکے لے لئے اور اُن کو اپنی نگرانی میں اعلیٰ تعلیم دینی شروع کی اور ان کی ہر وقت کی نگرانی کے لئے اُس نے مسمریزم کے ماہرین مقرر کئے اور اُن کی اتنی نگرانی کی جاتی کہ جب وہ لڑ کے قضائے حاجت کے لئے جاتے تو مسمریزم کے ماہرین باہر کھڑے رہتے اور ان پر توجہ ڈالتے تاکہ ان کے اندر بُرے خیالات نہ آنے پائیں ۔ جب میں ولایت سے واپس آ رہا تھا تو اسی جہاز میں وہ دونوں لڑکے بھی تھے۔ ہم نے دیکھا کہ وہ لڑ کے جدھر جاتے اُن کی سخت نگرانی کی جاتی ۔ ان میں سے جو بڑا لڑکا تھا وہ چھپ چھپا کر بعض دفعہ ادھر اُدھر نکل جایا کرتا تھا۔ اُس سے ایک دفعہ پوچھا گیا کہ تمہارا ان باتوں کے متعلق کیا خیال ہے؟ اس نے کہا یہ سب باتیں بالکل لغو ہیں میں ان کو نہیں مانتا ۔ مگر چھوٹا لڑکا جس کے متعلق مسز اپنی بسنٹ نے کہا تھا کہ یہ بڑا ہو کر دنیا کی اصلاح کرے گا اور فلاں سنہ میں اپنا دعویٰ پیش کرے گا وہ اپنے آپ کو بالکل الگ تھلگ رکھتا تھا اور ایسی شکل بنائے رکھتا تھا جیسے کسی گہری سوچ میں ہو اور کسی بڑی مہم کے متعلق غور و فکر کر رہا ہو ۔ کچھ عرصہ کے ہو ۔ کچھ عرصہ کے بعد جب وہ سنہ اور وہ تاریخ آگئی جو مسز اپنی بسنٹ نے اُس لڑکے کے دعوئی کے لئے بیان کی تھی تو اُن دنوں سارے ہندوستان میں اُس کے دعوئی کے متعلق بڑا شور مچا اور جلسے منعقد کئے گئے ۔ ایک جلسہ لاہور میں بھی ہوا تھا لیکن اُس جلسہ میں اُس لڑکے نے جو تقریر کی اُس کو سن کر دنیا حیران رہ گئی ۔ اُس نے اپنی تقریر میں کہا خدا کا وجود صرف ایک ڈھکوسلہ ہے نہ الہام ہوتا ہے نہ کچھ اور ۔ غرض جو مقصد اس کا مسز اپنی بسنٹ نے بتایا تھا وہ سب غلط ہو گیا اور وہ خدا تعالیٰ کے وجود کا ہی منکر ہو گیا چہ جائیکہ وہ دنیا کی اصلاح