انوارالعلوم (جلد 19) — Page 79
انوار العلوم جلد ۱۹ 29 قومی ترقی کے دوا ہم اصول اب دیکھو دنیا میں چھوٹے چھوٹے محسنوں کے لئے لوگ کتنی قربانیاں کرتے ہیں پھر جب وہ فانی دنیا کے فانی محسنوں کے لئے اپنی جانیں قربان کر دیتے ہیں یا یوں سمجھ لو کہ جب وہ کوئلوں کی حفاظت کے لئے اپنی جانیں قربان کر دیتے ہیں تو تم روحانی موتیوں اور ہیروں کی حفاظت کے لئے اپنی جانوں کو کیوں قربان نہیں کر سکتے۔اگر تم ایسا کرو اور اپنی جانیں خدا تعالیٰ کے سپر د کر دو تو اللہ تعالیٰ تمہیں غیر معمولی ترقی عطا فرمائے گا اور تمہارا قدم ہمیشہ ترقی کی طرف بڑھتا چلا جائے گا۔قرآن کریم نے نہایت واضح الفاظ میں بتایا ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان کی حقیر قربانی پیش کرتا ہے اُسے ابدی حیات عطا کی جاتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلا تَقُولُوا لِمَن يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ احياء ولكن لا تَشْعُرُون تے یعنی جو لوگ میری راہ میں اپنی جان دیتے ہیں تم انہیں مردہ مت کہو وہ لوگ ہمیشہ کے لئے زندہ ہیں لیکن تم سمجھتے نہیں گویا خدا ان کے لئے مُردہ کا لفظ بھی برداشت نہیں کر سکتا۔اس کی غیرت کہتی ہے کہ جن لوگوں نے میرے راستہ میں جان دی ہے ان کو مُردہ کہنا بھی گناہ کی بات ہے مُردہ وہ ہیں جو دنیا کے لئے مرے نہ وہ جو خدا کے لئے مرے اور انہوں نے ابدی حیات پائی۔اب دیکھو یہ خدا تعالیٰ کی کتنی غیرت ہے کہ وہ ان کے لئے مُردہ کا لفظ بھی برداشت نہیں کر سکتا وہ کہتا ہے میرا بندہ کمزور تھا اور اسے صرف مرنا آتا تھا اُس نے مر کر دکھا دیا مگر مجھے زندہ کرنا آتا ہے اس لئے اب میرا فرض ہے کہ میں اسے ابد الآباد کے لئے زندہ رکھوں۔پس ہماری جماعت کے ہر چھوٹے اور بڑے، نوجوان اور بوڑھے کو اس مقام پر کھڑا ہو جانا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں مرنا ہی سب سے بڑی سعادت ہے۔جب کوئی شخص اس یقین سے لبریز ہو جاتا ہے تو اس کی ساری کمزوریاں دور ہو جاتی ہیں اور اس کے اندر اتنی قوت پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں سے بھی ٹکر لینے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔پس سب سے پہلی چیز جو دینی جماعتوں کی ترقی کے لئے ضروری ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ انہیں اپنے مقصد عالی کے متعلق پورا پورا یقین ہو جب کسی قوم کو یہ یقین حاصل ہو جائے اُس کا رُعب دوسروں پر چھا جاتا ہے اور وہ اس سے ڈرنے لگ جاتے ہیں۔ہمارے سامنے صحابہ کی