انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 62 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 62

انوار العلوم جلد ۱۹ ۶۲ مصائب کے نیچے برکتوں کے خزانے مخفی ہوتے ہیں کو مکہ میں متواتر تیرہ سال تک صرف یہ کہنے پر کہ ایک خدا کی پرستش کرو انتہائی دکھوں میں مبتلا رکھا گیا ، جس کو اپنے پیارے وطن سے نکلنے پر مجبور کیا گیا، جس کو مارا اور پیٹا گیا ، جس کے دانت توڑ دیئے گئے ، جس کے عزیز ترین دوستوں کو شہید کر دیا گیا اور جس کے قریبی رشتہ داروں کو نہایت بے رحمی کے ساتھ شہید کر دیا گیا مگر اس کے دشمن کے ان مظالم کے باوجود کہا تو یہ کہا کہ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِی فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ اب تم ہی کہو کہ کیا ایسے باکمال انسان کو بُرا کہنا انصاف اور شرافت پر مبنی ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ عام طور پر جب کسی شخص کو دشمن کی طرف سے تکلیف پہنچتی ہے تو وہ سخت سے سخت گالیاں دیتا ہے۔اس کے دل میں دشمن کے خلاف انتہائی غصہ اور جوش ہوتا ہے اور وہ کہتا ہے خدا اس کا بیڑا غرق کرے۔خدا اسے غارت کرے حالانکہ دوسرے کسی شخص کو اپنے دشمن کی طرف سے اتنی تکلیف پہنچنے کا امکان ہی نہیں جتنی کہ آپ کے دشمنوں نے آپ کو پہنچائی تھیں پھر بھی دیکھا گیا ہے کہ عام طور پر لوگ اپنے دشمن کے خلاف انتقامی جذبات سے مغلوب ہو جاتے ہیں مگر آپ نے انتہائی دُکھوں کے وقت میں جو نمونہ اخلاق فاضلہ کا پیش کیا اس کی نظیر لانے سے دنیا تا قیامت قاصر رہے گی۔یہ وہی دشمن تھے جو رات دن آپ کے قتل کے منصوبے کیا کرتے تھے، یہ وہی دشمن تھے جنہوں نے آپ کے رشتہ داروں اور آپ کے صحابہ کو طرح طرح کی تکالیف پہنچائی تھیں، یہ وہی دشمن تھے جنہوں نے آپ کو اپنے عزیز وطن سے ہجرت کرنے کے لئے مجبور کر دیا تھا اور یہ وہی دشمن تھے جو آپ کے ہجرت کر کے مدینے پہنچ جانے کے بعد بھی آپ کو اور دوسرے مسلمانوں کو مٹا دینا چاہتے تھے۔مگر آپ فرماتے ہیں اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِی فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ آپ بھول جاتے ہیں اس بات کو کہ یہ وہی دشمن ہیں جنہوں نے اسلام لانے والوں کو دو پہر کی تپتی ہوئی ریت پر لٹایا تھا ، آپ بھول جاتے ہیں اس بات کو کہ یہ وہی دشمن ہیں جنہوں نے آپ پر ایمان لانے والوں کو آہنی سلاخیں آگ میں سرخ کر کر کے داغ دیا تھا، آپ بھول جاتے ہیں اس بات کو کہ یہ وہی دشمن ہیں جنہوں نے مسلمانوں کو تین سال کے لمبے عرصہ تک شعب ابی طالب میں محصور رکھا تھا اور آپ بھول جاتے ہیں ان تمام مظالم کو جو ان دشمنوں کی طرف سے وقتاً فوقتاً آپ پر ہوتے رہے اور آپ نہایت