انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 56

انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۶ مصائب کے نیچے برکتوں کے خزانے مخفی ہوتے ہیں وسليم کی بے ہوشی کی حالت میں آپ کے اوپر سے اور آپ کے ساتھیوں کے اوپر سے ان کے جسموں کو روندتا ہوا گزرا اور یہ آپ کی زندگی میں اپنی قسم کی پہلی مثال تھی مگر اس جنگ میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح بلند حوصلگی اور اپنے اعلیٰ اخلاق کا نمونہ پیش کیا اور لوگوں کے ساتھ ہمدردی اور دل جوئی کی۔اس جنگ کے حالات سے پتہ چلتا ہے کہ آپ اخلاق کے کتنے بلند ترین مقام پر کھڑے تھے اور اس جنگ میں صحابہ کی عدیم المثال قربانیوں کا بھی پتہ چلتا ہے۔میں اُس وقت کی بات کر رہا ہوں جب آپ جنگ ختم ہونے پر مدینہ واپس تشریف لا رہے تھے۔مدینہ کی عورتیں جو آپ کی شہادت کی خبر سن کر سخت بے قرار تھیں اب وہ آپ کی آمد کی خبر سُن کر آپ کے استقبال کے لئے مدینہ سے باہر کچھ فاصلہ پر پہنچ گئی تھیں ان میں آپ کی ایک سالی زینب بنت جحش کے بھی تھیں ان کے تین نہایت قریبی رشتہ دار جنگ میں شہید ہو گئے تھے۔رسول کریم ﷺ نے جب انہیں دیکھا تو فرمایا اپنے مُردے کا افسوس کرو ( یہ عربی زبان کا ایک محاورہ ہے۔جس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ میں تمہیں خبر دیتا ہوں کہ تمہارا عزیز مارا گیا ہے ) زینب بنت جحش نے عرض کیا يَارَ سُولَ الله الله کس مُردے کا افسوس کروں؟ آپ نے فرمایا تمہارا ماموں حمزہ شہید ہو گیا ہے۔یہ سن کر حضرت زینب نے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھا اور پھر کہا اللہ تعالیٰ ان کے مدارج بلند کرے وہ کیسی اچھی موت مرے ہیں۔اس کے بعد آپ نے فرمایا اچھا اپنے ایک اور مرنے والے کا افسوس کرلو۔زینب نے عرض کیا يَارَسُولَ الله الا اللہ کس کا ؟ آپ نے فرمایا تمہارا بھائی عبداللہ بن جحش بھی شہید ہو گیا ہے زینب نے پھر إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھا اور کہا اَلْحَمْدُ لِلہ وہ تو بڑی ہی اچھی موت مرے ہیں۔آپ نے پھر فرمایا زینب ! اپنے ایک اور مُردے کا افسوس کرو۔اُس نے پوچھا يَارَ سُول اللہ اللہ کسی کا ؟ آپ نے فرمایا تیرا خاوند بھی شہید ہو گیا ہے۔یہ سن کر زینب کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے اور اُس نے کہا ہائے افسوس !! یہ دیکھ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو! عورت کو اپنے خاوند کے ساتھ کتنا گہراتعلق ہوتا ہے۔جب میں نے زینب کو اُس کے ماموں کے شہید ہونے کی خبر دی تو اُس نے پڑھا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ، جب میں نے اُسے اس کے بھائی کے شہید ہونے