انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 610 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 610

انوار العلوم جلد ۱۹ ۶۱۰ پاکستان ایک اینٹ ہے اُس اِسلامی عمارت کی جسے ہم۔۔اتنی جلدی اور ایسی صورت میں مل پائے گا۔ہم اس امر سے انکار نہیں کر سکتے کہ ایک گروہ نے اس غرض کیلئے بڑی بھاری قربانیاں کی ہیں اور بہت بڑی مشکلات کا اسے سامنا کرنا پڑا ہے۔مگر ہم اس امر سے بھی انکار نہیں کر سکتے کہ جس رنگ میں پاکستان ملا ہے اس میں صرف انسانی کوششوں کا دخل نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل کا بھی بہت بڑا حصہ ہے جس نے ان کوششوں کو پایہ تکمیل تک پہنچا دیا۔اب ہمارے سامنے یہ سوال ہے کہ پاکستان کا مستقبل کیسا ہو۔اگر کسی کو کوئی اچھی عمارت مل جائے اور وہ اسے اپنی عدم توجہ سے بگاڑ دے تو دنیا اسے عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھ سکتی بلکہ اگر اس عمارت کو وہ اس حالت میں رہنے دے جس حالت میں وہ عمارت اُسے ملی تھی تب بھی وہ تعریف کے قابل نہیں سمجھا جاتا۔تعریف کے قابل وہ تب سمجھا جاتا ہے جب وہ اسے پہلے سے بہت اچھی حالت میں چھوڑ جائے۔پس ہمیں اس سوال پر غور کرتے ہوئے کہ پاکستان کا مستقبل کس طرح اچھا بنایا جا سکتا ہے یہ امر یا د رکھنا چاہئے کہ اصل مقابلہ اُسی وقت شروع ہوتا ہے جب کوئی چیز حاصل ہو جاتی ہے۔اگر کوئی شخص اپنے ذہن میں یہ سکیم بنائے کہ میں اس اس طرح تجارت کروں گا اور میرے پاس لاکھوں روپیہ جمع ہو جائے گا تو محض شیخ چلی جیسے خیالات پیدا ہونے کی وجہ سے ڈاکو اس کے گھر پر حملہ نہیں کر دیں گے لیکن اگر وہ اپنی سکیموں میں کامیاب ہو جائے تو اس کے بعد بے شک اسے خطرہ پیدا ہوگا کہ کہیں ڈاکو میرے گھر کو نہ لوٹ لیں۔پاکستان کا بھی جب تک قیام نہیں ہوا تھا اس کی مخالفت کا صحیح طور پر جذ بہ پاکستان کے مخالفوں کے دلوں میں پیدا نہیں ہوا تھا جس طرح کسی شخص کے گھر پر ڈاکہ ڈالنے کا خیال لوگوں کو نہیں آ سکتا جس نے ابھی تک اپنی کسی سکیم کو چلایا ہی نہ ہو۔جب تک پاکستان قائم نہیں ہوا تھا دشمن سمجھتا تھا کہ پاکستان کا خیال مجنونوں کی ایک بڑ ہے اور گو ایک حصہ مخالفت بھی کرتا تھا مگر بعض لوگ اس وجہ سے مخالفت نہیں کرتے تھے کہ جو چیز بھی بنی ہی نہیں اس کی ہم مخالفت کیوں کریں یا کم سے کم وہ شدید مخالفت نہیں کرتے تھے لیکن جب پاکستان وجود میں آ گیا تو جو اس کے مخالف تھے اور پاکستان کے قیام میں اپنی سکیموں کی تباہی دیکھ رہے تھے ، ان کی مخالفت کا جذبہ بھڑک اُٹھا اور اُنہوں نے سمجھا کہ اب ہمیں اس کو مٹانے کی پوری کوشش کرنی چاہئے۔لیکن