انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 601 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 601

انوار العلوم جلد ۱۹ ۶۰۱ مسلمانانِ بلوچستان سے ایک اہم خطاب جائے تو پھر وہ دشمن کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔دوسری بات جو میں آپ لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں وہ کشمیر کے متعلق ہے امید کرتا ہوں کہ اس مسئلہ کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے آپ لوگ پوری توجہ اس طرح مبذول رکھیں گے۔ہم نے اپنی آنکھوں سے مشرقی پنجاب میں مظالم دیکھے ہیں جن کے تصور سے بھی انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں چھوٹے چھوٹے بچوں کو نیزوں پر لٹکا کر مارا گیا ،عورتوں کی بے حرمتیاں کی گئیں، مردوں کو قتل کیا گیا ، مکانوں اور جائدادوں کو تباہ کیا گیا اور اس قسم کے مظالم مسلمانوں پر کئے گئے جن کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں مل سکتی۔جن دنوں فسادات زوروں پر تھے میں نے قادیان والوں کو روک دیا تھا کہ پیدل مت آنا جس طرح بھی ہو سکا میں تمہارے لئے ٹرک بھیجوانے کا انتظام کروں گا مگر ساٹھ ہزار کے قریب ریفیوجی باہر سے قادیان آپہنچا ملٹری نے اُسے ڈرایا کہ تم یہاں سے چلے جاؤ ورنہ ہم تمہاری حفاظت نہیں کریں گے حفاظت تو وہ پہلے بھی نہیں کرتے تھے مگر بہر حال انہوں نے یہ بہانہ بنایا اور اس طرح ڈرا دھمکا کر انہیں پیدل قافلہ کی صورت میں قادیان سے روانہ کر دیا۔اس قافلہ میں قریب کے گاؤں کی ایک احمدی عورت بھی شامل تھی اُس نے مجھ سے حلفیہ بیان کیا کہ بٹالہ کیمپ میں رات کے وقت ملٹری کے آدمی آئے اور وہ میرے پاس سے ایک عورت اُٹھا کر لے گئے۔جب صبح ہوئی تو وہ اُس عورت کو لائے اور اُسے وہیں میرے قریب ڈال کر چلے گئے۔اُس عورت کو میں نے دیکھا اُس کی حالت بہت نازک تھی اور وہ بار بار بیہوش ہو جاتی تھی میں اُس کے قریب گئی اور اُس سے پوچھا بہن تمہارا کیا حال ہے؟ اُس نے بتایا کہ ملٹری کے آدمی ساری رات مجھ سے زنا کاری کرتے رہے ہیں ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا آتا اور مجھ سے یہ فعل کرتا۔میں بار بار بیہوش ہو جاتی مگر وہ اس ظالمانہ فعل سے باز نہیں آتے تھے اب وہ ایسی حالت میں مجھے یہاں چھوڑ گئے ہیں جب کہ میں سمجھتی ہوں کہ اب میں بچ نہیں سکتی چنانچہ اس کے بعد اُس نے یکدم ایک چکی لی اور اپنی جان دے دی۔دنیا کی تاریخ میں اس بے حیائی اور سفا کی کی اور کوئی مثال نہیں مل سکتی کہ وہ ملٹری جس کا کام پبلک کی حفاظت کرنا ہے وہ ملٹری جس کا کام لوگوں کے ننگ و ناموس کو بچانا ہے وہ ملٹری جو آزاد ممالک میں پبلک پر