انوارالعلوم (جلد 19) — Page 543
انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۴۳ سیر روحانی (۴) شاہ کی لاٹ وہیں کھڑی رہی۔دتی سے مسلمان چلے گئے مگر قطب الدین کی لاٹ وہ اپنے ساتھ نہیں لے گئے لیکن دنیا کے کسی خطہ میں تم چلے جاؤ اور جہاں بھی چاہور ہو تم اس مقام پر محمدی مینار کھڑا کر سکتے ہو یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی تبلیغ اور اشاعت کر سکتے ہو۔ہندوستان کے مسلمانوں کو آجکل یہ نکتہ یا درکھنا چاہئے اب ہندوستان میں محمدی مینار کھڑا کرنا ان کے ذمہ ہے خصوصاً احمدی جماعت کے ، ان کو تو ایک منٹ کے لئے بھی یہ بات نہیں بھولنی چاہئے اور ہندوؤں اور سکھوں میں تبلیغ جاری رکھنی چاہیئے مایوس ہونے والی بات نہیں جس خدا نے اسلام کو دنیا میں اتنا پھیلایا ہے وہ پھر بھی اُن کی زبانوں میں تاثیر پیدا کر سکتا ہے اور لوگوں کے دلوں کو صاف کر سکتا ہے۔بہر حال یہ محمدی مینا ر اپنے اندر یہ خصوصیت رکھتا ہے کہ تم جہاں چاہو اس کو کھڑا کر سکتے ہو اور جس جگہ بھی تم اس مینار کو کھڑا کرو گے وہیں خدا تعالیٰ کے انوار اترنے لگ جائیں گے اور ہر جگہ تم اس مینار سے روشنی حاصل کر سکو گے۔قطب الدین کی لاٹ پر اگر بڑے سے بڑا روشن چراغ بھی جلاؤ تو وہ زیادہ سے زیادہ پندرہ بیس میل تک روشنی پہنچا سکتا ہے۔سمندر کی تاریکیوں میں جب کہ بڑی بڑی چٹانوں سے جہاز ٹکرا کر پاش پاش ہور ہے ہوتے ہیں ان میناروں کی روشنی سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھایا جا سکتا اور ہزار دو ہزار میل تک تو دنیا کا کوئی مینا ر بھی روشنی نہیں پہنچا سکتا لیکن اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت ہو تو خواہ انسان طوفانوں میں گھر جائے، حوادث اور مصائب کے بادل اس پر اُٹڈ آئیں ، اگر وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا واسطہ دے کر خدا تعالیٰ سے دعا کریگا تو وہیں مینا محمدی کھڑا ہو جائے گا اس کے لئے کوئی جگہ مخصوص نہیں ، اس کے لئے کوئی وقت معین نہیں ،سمندروں پر یہ مینار کھڑا کیا جا سکتا ہے، پہاڑوں پر یہ مینار کھڑا کیا جا سکتا ہے، غاروں میں یہ مینار لے جایا جا سکتا ہے ،غرض ہر مقام اور ہر جگہ پر اس سے استفادہ کیا جاسکتا ہے اور یہ وہ خوبی ہے جو دنیا کے کسی اور مینار میں نہیں پائی جاتی۔محمدی مینار ہر انسان کو اس کے درجہ کے مطابق روشنی دیتا ہے پھر اس مینار میں ایک اور خوبی یہ ہے کہ اس سے ہر شخص اپنے درجہ کے مطابق روشنی حاصل کر سکتا ہے۔اگر قطب الدین کی لاٹ پر دس ہزار