انوارالعلوم (جلد 19) — Page 29
انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۹ زمانہ جاہلیت میں اہل عرب کی خوبیاں اور اُن کا پس منظر بعثت بنگال یا پشاور یا دکن میں ہونی چاہئے تھی تو یہ اس کی حماقت ہوگی اللہ تعالیٰ ہی سب سے بہتر انتخاب کر سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے جس کو فرسٹ (FIRST) قرار دینا تھا دے دیا اور اس کی نظر نے دیکھ لیا کہ اس وقت پنجاب ہی اس قابل ہے کہ اس میں میں اپنا مامور بھیجوں۔وہ اچھی طرح اس بات کو جانتا تھا کہ ان کے اندر چھپی ہوئی فضیلت ہے اور ان میں با لقوۃ ترقی کی قابلیت موجود ہے۔پس جہاں تک اخلاق فاضلہ کا تعلق ہے بے شک عربوں میں اسلام سے پہلے نہ تھے لیکن ان کے اندر بالقوہ نیکی کی استعداد موجود تھی اور ان میں بعض چھپی ہوئی خوبیاں پائی جاتی تھیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بعض زمینیں بظاہر یکساں نظر آتی ہیں لیکن ایک زمین ایسی ہوتی ہے کہ اگر اس پر شبنم بھی پڑ جائے تو وہ غلہ اگاتی ہے اور دوسری ایسی ہوتی ہے کہ اگر اس پر متعدد دفعہ بارشیں بھی ہوتی رہیں تو اس میں روئیدگی کی طاقت نہیں آتی۔پس اللہ تعالیٰ نے عربوں کو اس لئے اپنے دین کیلئے چنا کہ ان میں اس بوجھ کے برداشت کرنے کے لئے قوت موجود تھی اور وہ جانتا تھا کہ جب اس قوم پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چھینٹا پڑے گا ان میں روئیدگی کی وہ طاقت پیدا ہو جائے گی جو کسی اور قوم میں نہیں ہوسکتی۔پس عربوں کی اس فضیلت کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔اور انکار کرنے کے یہ معنی ہوں گے کہ جان بوجھ کر انکار کیا جا رہا ہے جیسے کہتے ہیں کہ کوئی جولاہا فوج میں بھرتی ہو گیا جب وہ میدانِ جنگ میں پہنچا تو تیر لگنے سے زخمی ہو گیا اور اُس کا خون بہنے لگا۔وہ خون کو دیکھتا اور بھا گتا جاتا اور کہتا جاتا یا اللہ ! ایہہ خواب ہی ہووے۔یا اللہ ! ایہہ خواب ہی ہووے۔پس عربوں کی فضیلت کا انکار کرنا اس جولا ہے کی پیروی کے مترادف ہوگا۔عربوں نے اس طرح اسلام کو قبول کیا اور پھر ساری دنیا میں پھیلایا کہ دنیا حیران رہ گئی اور وہ ایک قلیل عرصہ میں دنیا کے معتد بہ حصہ پر اسلام پھیلانے کا موجب ہوئے۔پس عربوں کا پا لقوہ نیکی کا انکار کوئی اندھا ہی کرے تو کر سکتا ہے لیکن عقل اور دماغ رکھنے والا انسان کبھی اس حقیقت کا انکار نہیں کر سکتا کہ عربوں کے اندر جو پا لقوہ نیکی موجود تھی وہ اور کسی قوم کے اندر نہ تھی۔الفضل ۳، ۵ ، ۸،۷، ۱۲،۹ ستمبر ۱۹۶۱ء)