انوارالعلوم (جلد 19) — Page 491
انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۹۱ سیر روحانی (۴) حصول مقاصد میں ناکامی مگر میں نے دیکھا کہ ان میناروں سے یہ چاروں اغراض پوری طرح حاصل نہیں ہوئیں۔اوّل تو آسمانی روحوں کے اترنے کا کوئی ثبوت نہیں ، مصریوں نے مینار بنا دیئے ، کروڑوں کروڑ روپیہ خرچ کر دیا ، مُردوں کے ساتھ زیورات اور سامان بھی دفن کر دیئے مگر اب یورپین قو میں وہی سامان اُٹھا کر اپنے ملکوں کو لے گئیں۔اور وہ مُردے جو انہوں نے وہاں دفن کئے تھے اُن کو بھی انہوں نے اپنے عجائب گھروں میں رکھا ہوا ہے۔کوئی لاش امریکہ کے عجائب گھر میں پڑی ہے اور کوئی فرانس کے عجائب گھر میں ، گویا قیمتی سامان بھی ضائع ہوا اور مُردوں کی بھی بہتک ہوئی۔کسی فرعون کی لاش امریکہ کو دیدی گئی، کسی کی فرانس کو دے دی گئی اور کسی کی برطانیہ کو دے دی گئی اور اس طرح ان مُردوں کی مٹی خراب ہو رہی ہے۔دوم قرآن کریم کی ابھی میں نے ایک آیت پڑھی ہے جس میں فرعون نے ہامان سے یہ کہا کہ تم ایک اونچا اور بلند مینار بناؤ تا کہ میں یہ دیکھوں کہ موسیٰ کا خدا کہاں ہے؟ تو رات سے پتہ لگتا ہے کہ رمسیس وہ فرعون تھا جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پالا اور منفتاح وہ فرعون تھا جو حضرت موسیٰ“ کے زمانہ میں تھا اور جو آپ کے مقابلہ میں آکر تباہ ہوا۔وہ بنی اسرائیل سے اینٹیں پڑھوایا کرتا تھا اور اسی طرح ان پر اور بھی بہت سے مظالم کیا کرتا تھا۔قرآن کریم بتاتا ہے کہ جب اس نے ہامان سے یہ کہا کہ میرے لئے ایک اونچا سا مینار بناؤ تا کہ میں یہ دیکھوں کہ موسیٰ کا خدا کہاں ہے تو خدا تعالیٰ نے اس کی اس خواہش کو رائیگاں جانے نہیں دیا، اس نے اپنا وجو د تو اسے دکھا دیا مگر مینار کی چوٹی پر نہیں بلکہ سمندر کی تہہ میں۔قرآن کریم کہتا ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر مصر چھوڑ کر بھاگے اور فرعون نے ان کا تعاقب کیا اور آخر وہ سمندر کی موجوں میں گھر گیا تو جب وہ غرق ہونے لگا اُس وقت اس نے یہ الفاظ کہے کہ مَنْتُ اَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُوا إِسْرَاءِ يُلَ وَآنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ گویا اُسے خدا تو نظر آ گیا مگر وہ فرعون جس نے آسمان پر خدا کو دیکھنا چاہا تھا اسے خدا پاتال میں نظر آیا۔پس مینار پر چڑھ کر خدا دیکھنے کا ایک غلط خیال اس کے دل میں موجود تھا جو