انوارالعلوم (جلد 19) — Page 485
انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۸۵ سیر روحانی (۴) پانچ لیکچر میں اس مضمون پر دے چکا ہوں، لیکن ابھی بہت سے لیکچر باقی ہیں۔درمیانی عرصہ میں مختلف حالات کی وجہ سے جو مضامین آجاتے رہے ہیں ان کی وجہ سے یہ دونوں مضمون ابھی نامکمل ہیں، لیکن بہر حال میں آج سیر روحانی کے ایک پہلو کو بیان کر دینا ضروری سمجھتا ہوں۔مادی میناروں کے مقابلہ میں اسلام کا پیش کردہ مینار میں نے بیان کیا تھا کہ میں نے اپنے سفر میں بڑے بڑے بلند مینار دیکھے ، ایسے مینار جو آسمان سے باتیں کر رہے تھے ، جیسے قطب صاحب کی لاٹ ہے یا تغلق شاہ کی لاٹ ہے۔میں نے ان بلند و بالا میناروں کے دیکھنے کے بعد غور کیا کہ کیا قرآن کریم میں بھی کسی بلند تر روحانی مینار کا ذکر پایا جاتا ہے اور یہ کہ اس مینار کے مقابلہ میں دنیوی مینا ر کیا حقیقت رکھتے ہیں۔مینار کیوں بنائے جاتے ہیں؟ جب میں نے یہ سوچا تو پہلا سوال میرے دل میں یہ پیدا ہوا کہ مینار کیوں بنائے جاتے ہیں؟ اور کیا وہی اغراض قرآن کریم کی کسی پیش کردہ چیز سے پوری ہوتی ہیں یا نہیں؟ عالم بالا کے اسرار معلوم کرنے کی جستجو اس نقطہ نگاہ سے جب میں نے میناروں کی تاریخ پر غور کیا، تو مجھے معلوم ہوا کہ مینار بنانے کا پہلا موجب یہ تھا کہ لوگ یہ خیال کرتے تھے کہ آسمان کسی محدود فاصلہ پر واقع ہے اور وہ کسی اونچی جگہ پر جا کریا تو آسمان پر چڑھ جائیں گے اور یا اس قابل ہو جائیں گے کہ فرشتوں اور ارواح کے ساتھ باتیں کر سکیں اور آسمانی نظاروں کو دیکھ سکیں۔گویا میناروں کی تعمیر کا ایک محرک بنی نوع انسان کا یہ عقیدہ تھا کہ وہ اوپر چڑھ کر آسمان کے قریب ہو جائیں گے اور عالم بالا کے اسرار کو آسمانی ارواح سے معلوم کر سکیں گے۔قرآن کریم اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے وَقَالَ فِرْعَوْنُ يَنْهَامُنُ ابْنِ لِي صَرْحًا لَّعَلَّى اَبْلُغُ الْأَسْبَابَ أَسْبَابَ السَّمَواتِ فَاطَّلِعَ إِلَى إِلَهِ مُوسَى وَإِنِّي لَأَظُنُّهُ كَاذِبًا وَكَذَلِكَ زُيِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوءُ عَمَلِهِ وَصُدَّعَنِ السَّبِيْلِ وَمَا كَيْدُ فِرْعَوْنَ إِلَّا فِي تَبَابٍ یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب فرعون کے سامنے اپنا دعویٰ پیش کیا تو فرعون نے