انوارالعلوم (جلد 19) — Page 462
۴۶۲ قیام پاکستان اور ہماری ذمہ داریاں انوار العلوم جلد ۱۹ نے مدینہ کے ایک بہت بڑے مسلمان سردار کو دیکھا کہ وہ زخموں کی تکلیف کی وجہ سے تڑپ رہے ہیں اور نزع کی حالت میں گرفتار ہیں۔وہ جلد جلد ان کے قریب ہوئے اس خیال سے کہ شاید انہیں پیاس لگی ہوئی ہو یا شاید وہ کوئی پیغام دینا چاہتے ہوں۔قریب پہنچ کر انہوں نے کہا فرمائیے آپ کو کوئی حاجت تو نہیں؟ میں آپ کی خدمت کے لئے حاضر ہوں۔انہوں نے کہا ہاں ہاں میں انتظار ہی کر رہا تھا کہ کوئی صحابی مجھے ملے اور میں اس کے ذریعہ ایک ضروری پیغام پہنچا دوں۔پھر انہوں نے کہا آگے آؤ اور میرے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دو۔جب انہوں نے اپنا ہاتھ آگے کیا تو اس صحابی کے ہا تھ کو پکڑ کر کہا میں اس لئے کسی آدمی کا انتظار کر رہا تھا کہ میں چاہتا تھا میرا ایک پیغام میرے قبیلہ والوں کو پہنچ جائے سو اَلْحَمْدُ لِلَّهِ تم مجھے مل گئے ہو۔میرے قبیلہ کے لوگوں کو میری طرف سے کہہ دینا کہ تمہارے خاندان کا فلاں رئیس مر چکا ہے اور اُس نے مرتے وقت یہ کہا ہے کہ اے میرے عزیز و! دنیا کی سب سے بڑی اور قیمتی امانت جو ہمارے پاس ہے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ہے۔ہم نے اسکی حفاظت کے لئے اپنی جانیں قربان کیں اور اس مقدس امانت کی نگہداشت کے لئے ہم سے جو کچھ ہو سکتا تھا کیا اب ہم جانیں قربان کر کے جارہے ہیں اور وہ امانت تمہارے سپر د ہورہی ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ تم بھی اپنی جانیں قربان کر کے اس قیمتی امانت کی حفاظت کرو گے۔یہ کہا اور جان دے دی۔اسے دنیا میں لوگ مرتے ہیں مگر جاننے والے جانتے ہیں کہ کس طرح مرتے وقت ہائے اماں اور ہائے بچو! کے الفاظ ان کی زبان پر ہوتے ہیں مگر اس انسان کو دیکھو کہ مرتے وقت وہ یہ نہیں کہتا کہ میری جائیداد کو یوں سنبھالا جائے ، وہ یہ نہیں کہتا کہ میرے بچوں کی اس طرح نگہداشت کی جائے ، وہ یہ نہیں کہتا کہ میری بیوی کو یہ پیغام دیا جائے۔وہ کہتا ہے تو یہ کہ جو کچھ بچ گیا ہے وہ بھی اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے قربان کر دیا جائے۔یوں فخر کر لینا کہ ہم مسلمان یا مسلمانوں کی اولاد ہیں اور بات ہے اور کام کرنا اور بات ہے۔اسلام پر اس وقت جو نازک دور آیا ہوا ہے وہ ایسا نہیں کہ مرد اور عورت کی قربانی کے بغیر اس میں سے گزرا جا سکے۔اب وقت آگیا ہے کہ ہر مرد اور عورت یہ سمجھ لے کہ اب اس کی زندگی اپنی نہیں بلکہ اس کی زندگی کی ایک ایک گھڑی اسلام کے لئے وقف ہے اور اسے سمجھ لینا چاہئے