انوارالعلوم (جلد 19) — Page 377
انوار العلوم جلد ۱۹ تقریر جلسہ سالانہ ۲۸ ؍ دسمبر ۱۹۴۷ء آبادی کے متعلق جو اعداد و شمار جمع کئے گئے ہیں ان سے پتہ لگتا ہے کہ پنجاب کی آبادی میں ۲۹ فیصد غیر زراعت پیشہ ہیں اور باقی زراعت پیشہ مگر یہ تقسیم سارے ضلعوں میں برابر نہیں بعض جگہ یہ نسبت زیادہ ہے اور بعض جگہ کم۔بہر حال تمام اضلاع کا جائزہ لینے پر یہ نسبت ۸۰ فیصدی سے ۱۹ فیصدی قرار پاتی ہے یعنی کسی جگہ ۸۰ فیصدی ہے اور کوئی ضلع ایسا ہے جس میں 19 فیصدی ہے اس کی اوسط ۲۹ فیصدی ہے اور یہی وہ نسبت ہے جو پنجاب کے غیر زراعت پیشہ لوگوں کی قرار دی گئی ہے۔اب ۲۹ فیصدی کی اوسط کو مد نظر رکھتے ہوئے مشرقی پنجاب کی آبادی کا اگر جائزہ لیا جائے تو حقیقت واضح ہو جاتی ہے۔مشرقی پنجاب میں اگر چہ مسلمان زیادہ تھے مگر مشرقی پنجاب کے شہروں میں زیادہ تر ہندو بستے تھے کیونکہ قانون یہ ہے کہ جس قوم کی اقلیت ہوتی ہے وہ زیادہ تر شہروں میں مقیم ہوتی ہے۔یوپی کے شہروں میں مسلمان آبادی کی نسبت ہندوؤں سے زیادہ ہے اور پنجاب کے شہروں میں ہندوؤں کی آبادی جو اقلیت میں تھے زیادہ تھی کیونکہ اقلیت والے ہمیشہ اپنی حفاظت کا ذریعہ سوچتے ہیں اور وہ ذریعہ انہیں یہی نظر آتا ہے کہ ہم کسی جگہ اکٹھے ہو کر ر ہیں چنانچہ وہ شہروں میں اکٹھے ہو جاتے ہیں۔اس قانون کو مد نظر رکھتے ہوئے مشرقی پنجاب کی شہری آبادی یا دوسرے لفظوں میں یوں کہو کہ غیر زراعت پیشہ لوگوں کی آبادی زیادہ تھی۔اگر ۲۹ فیصدی کو ہی لے لیا جائے تو جیسا کہ میں نے بتایا ہے گل ۵۶ لاکھ مسلمان تھے۔گورنمنٹ کہتی ہے کہ ۴۶ لاکھ مسلمان مغربی پنجاب میں پہنچا ہے ۵ لاکھ کو مار دیا گیا ہے اور پانچ چھ لاکھ کو جبری طور پر مرتد بنالیا گیا ہے۔بہر حال ۴۶ لاکھ کا سوال ہم نے حل کرنا ہے ان میں سے غیر کا شتکا ر۱۳ لاکھ ۲۴ ہزار ہیں اور کاشتکار ۳۲ لاکھ ۷۶ ہزار، گویا جو لوگ باہر سے آئے ہیں اور جن کے لئے ہم نے زمینوں کا انتظام کرنا ہے وہ ۳۲ لاکھ ۷۶ ہزار ہیں۔اب ہم زمین کو دیکھتے ہیں کہ وہ کتنی ہے گورنمنٹ کے ریکارڈ کے رو سے سکھوں اور ہندوؤں کی زمین ۱۷،۰۰۰ ، ۶۶ اور دوسرے غیر مسلموں کی زمین ۴٬۰۶،۰۰۰ ایکڑ ہے گویا ۰ ۷ لاکھ ۲۳ ہزار ایکڑ زمین تھی۔اس میں جو غیر مسلموں کی کاشت کردہ زمین تھی وہ ۳۶،۵۸۱، ۴۸ ایکڑ تھی۔وہ زمینیں جن کے مسلمان مزارع تھے مگر مالک ہندو ہونے کی وجہ سے بھاگ گئے وہ زمینیں اس سے مستثنیٰ ہیں کیونکہ ہم ان کے متعلق