انوارالعلوم (جلد 19) — Page 343
انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۴۳ الفضل کے اداریہ جات کچھ ڈال دیا ہے اس لئے مجھے اچھے آثار نظر نہیں آتے۔پریس کے ایک نمائندہ نے کہا کہ پھر آپ سر ظفر اللہ کو تارکیوں نہیں دیتے ؟ میں نے جواباً کہا کہ سر ظفر اللہ میرے ملازم نہیں بلکہ پاکستان حکومت کے ملازم ہیں اُن کی ملازمت کی ذمہ داریوں میں دخل دینا میرے لئے ہرگز جائز نہیں۔یہ پاکستان حکومت کا کام ہے کہ وہ اُن کو مشورہ دے کہ اس موقع پر اُن کو کیا طریقہ اختیار کرنا چاہئے۔یو۔این۔او میں کشمیر کے مسئلہ نے جو ایک نئی صورت اختیار کی ہے میرے نزدیک اس کا جواب فلسطین اور جیوٹ یعنی سن لکڑا ہیں۔دنیا کی تجارت سن کی بوریوں کے بغیر نہیں چل سکتی۔سن ۴۰ اسی فیصد مشرقی پاکستان میں پیدا ہوتی ہے لیکن بوریاں سو فیصدی مغربی بنگال میں بنتی ہیں۔دنیا کے چند ممالک کے سوا جو خام سن منگوا کر اور وہ بھی پکی بیلز کی صورت میں اپنے ملک میں بوریاں بنواتے ہیں باقی سارے ممالک ہندوستان سے بوریاں خریدتے ہیں اکثر زرعی اور خوردنی اجناس ایک ملک سے دوسرے ملک کی طرف بغیر بوریوں کے منتقل نہیں کی جاسکتیں۔پاکستان بوریاں نہیں دے سکتا، ہندوستان بوریاں دے سکتا ہے۔حال ہی میں ارجنٹائن نے بوریوں کا معاہدہ ہندوستان سے کیا ہے اور نتیجہ یہ ہوا ہے کہ پہلے وہ پاکستان کے حق میں تھا اب وہ پیچھے ہٹ رہا ہے۔اسی طرح اور ملکوں کو بھی ضرورت ہے چونکہ خام سن دوسرے ملکوں میں نہیں جاسکتی اور اکثر پکی بیلز اور تمام سن کی بوریاں کلکتہ ہی کے اردگرد تیار ہوتی ہیں اس لئے پاکستان مجبور ہے کہ وہ اپنی سن مغربی بنگال کی طرف جانے دے۔پاکستان نے ایسی سن پر برآمد کا محصول لگا دیا ہے مگر اس محصول سے روپیہ ہی ملے گا سیاسی فائدہ تو نہیں ملے گا۔سیاسی فائدہ تو بہر حال انڈین یونین ہی اُٹھائے گی جو پکی بیلز بنائے گی اور بوریاں بھی بنائے گی۔دوسری وجہ اس پانسہ کے پلٹنے کی یہ ہے کہ فلسطین کے خلاف فیصلہ کرنے کے بعد مغربی حکومتوں نے محسوس کیا کہ مسلمان اُن کی طرف سے ہٹ رہے ہیں اس لئے انہوں نے کشمیر کے معاملہ میں مسلمانوں کو خوش کرنے کی کوشش کی لیکن اس عرصہ میں انہیں معلوم ہو گیا کہ فلسطین کے معاملہ میں اُنہوں نے جو فیصلہ کیا تھا اُس سے روس کو فائدہ پہنچتا ہے اور وہ قابل عمل بھی نہیں۔اس وجہ سے اُنہوں نے اس فیصلہ میں بظاہر تبدیلی کرنے کا فیصلہ کر لیا ( بظاہر اس لئے کہ