انوارالعلوم (جلد 19) — Page 342
انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۴۲ الفضل کے اداریہ جات سر ظفر اللہ نہیں دے سکتے اور سیکیورٹی کونسل اگر اس سوال میں پاکستان حکومت کے خلاف بھی فیصلہ کر دے تو بھی پاکستان گورنمنٹ اُس کے ماننے یا نہ ماننے میں آزاد ہے پھر سر ظفر اللہ کیا کر سکتے ہیں اگر وہ کوئی ایسی حرکت کریں گے تو پھر اس کا الزام صرف اُن پر نہیں ہوگا بلکہ قائداعظم اور ساری کیبنٹ پر بھی ہوگا۔الزام لگانے والوں کو یا تو یہ اعلان کرنا چاہئے کہ قائد اعظم اور اُن کی ساری کیبنٹ بھی اندر سے مرزائی ہے اور یا اُن کو یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ یہ الزام سرا سر غلط اور نا واجب ہے۔حقیقت یہ ہے کہ کشمیر کا مسئلہ قادیان سے وابستہ نہیں۔قادیان سے امریکنوں ، فرانسیسیوں، چینیوں، کینیڈا اور بیلجیئم والوں کو کیا دلچسپی ہو سکتی ہے۔سیکیورٹی کونسل کے گیارہ ممبر احمدی نہیں وہ دنیا کی گیارہ حکومتوں کے نمائندے ہیں۔کیا کوئی عظمند یہ سمجھ سکتا ہے کہ جب تک قادیان کے بارہ میں انڈین یونین سمجھوتہ کرنے کیلئے تیار نہیں تھی اُس وقت تک امریکہ ، برطانیہ، کینیڈا، فرانس، بیلجیئم اور چین ہندوستان یونین کی مخالفت کر رہے تھے لیکن جونہی انڈین یونین قادیان احمدیوں کو دینے پر تیار ہو گئی (جس کے ظاہر میں کوئی آثار نظر نہیں آتے ) فوراً ان سب حکومتوں نے اپنے پولیٹکل مفاد کو بھلا دیا اور انڈین یونین کی تائید کرنے لگ گئیں گویا پاکستان کے گورنر جنرل اور پاکستان کی وزارت ہی اندرونی طور پر مرزائی نہیں بلکہ دنیا کی بہت سی حکومتیں اور اُن کی وزارتیں بھی اندرونی طور پر مرزائی ہیں۔قادیان کی واگزاری کا معاملہ آیا اور سب نے ہتھیار پھینک دیئے اور اپنے تمام سیاسی فوائد قربان کرنے پر تیار ہو گئے جن کی وجہ سے وہ پہلے انڈین یونین کی مخالفت کر رہے تھے۔بریں عقل و دانش باید گریست میں جب کراچی میں تھا تو ایک پریس کانفرنس کے دوران میں مجھ سے پر لیس کے بعض نمائندوں نے پوچھا کہ آپ کا کیا خیال ہے کہ سیکیورٹی کونسل کشمیر کے مسئلہ کے متعلق کیا فیصلہ کرے گی؟ میں نے انہیں جواب دیا کہ میرے خیال میں سیکیورٹی کونسل کا فیصلہ عقل اور انصاف پر مبنی نہیں ہوگا بلکہ جو فریق اُن کی جھولی میں زیادہ خیرات ڈالے گا وہ اُس کے حق میں ووٹ دیں گے۔میں نے اُن سے کہا کہ میرے خیال میں انڈین یونین نے اُن کی جھولیوں میں