انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 11

انوار العلوم جلد ۱۹ 11 زمانہ جاہلیت میں اہل عرب کی خوبیاں اور اُن کا پس منظر اور بستر دینا میرا فرض ہے۔ان لوگوں نے اپنے مخصوص حالات کی وجہ سے آپس میں یہ فیصلہ کر رکھا ہے کہ سفر کی حالت میں زید مجھ سے روپیہ لے جائے گا تو میں اس سے روپیہ لے آؤں گا اپنے گھر سے ساتھ کچھ نہیں لے جائیں گے۔اب اگر کوئی شخص ان باتوں کو مناقب ہزارہ کے طور پر بیان کرنے لگ جائے تو کہاں تک درست ہو سکتا ہے۔یہ تو ان کا قومی کیریکٹر ہے جو مخصوص حالات نے پیدا کیا ہے اور وہ اس کے لئے مجبور ہیں کیونکہ اس کے سوا ان کا کام چل ہی نہیں سکتا ان کا یہ خلق طبعی اور اقتصادی حالات سے پیدا ہوا ہے مگر ہم اسلامی تعلیم کی روشنی میں اس کا نام خلق نہیں رکھ سکتے زیادہ سے زیادہ اس فعل کو حسین کہہ سکتے ہیں مگر خلق فاضل نہیں کہہ سکتے۔خُلق وہ ہوتا ہے جو الہی حکم کے ماتحت ہو اور اعلیٰ مقاصد کو اپنے اندر لئے ہوئے ہو۔پس بے شک عربوں کے اندر مہمان نوازی تھی مگر وہ اسی قسم کے اقتصادی حالات کے ماتحت تھی اور وہ مجبور تھے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فعل چونکہ وہ اعلیٰ مقاصد اپنے اندر لئے ہوئے تھا اس لئے آپ کا یہ فعل ایک نئی چیز بن گئی اور یہ فعل خلق کہلایا۔بعض اوقات انسان کسی چیز کی شکل اور اس کے بیرونی حصہ کو دیکھ کر اس کی خوبیوں کے متعلق غلط اندازہ لگا لیتا ہے اور بعض دفعہ ایک چیز کو وہ اعلیٰ سمجھتا ہے لیکن وہ نہایت ناقص ہوتی ہے۔میرے پاس حال ہی میں ایک رسالہ امریکہ سے آنا شروع ہوا ہے جو کسی دوست نے میرا نام لگوا دیا ہے اس میں تین تصویر میں دکھائی گئی ہیں اور ساتھ لکھا ہوا ہے کہ ان کی شکلیں دیکھ کر بتایا جائے کہ ان میں سے اچھا کون ہے اور بُرا کون۔اور دوسرے صفحہ پر ان کی اصل حقیقت کو پیش کیا گیا ہے۔میں نے بھی ان تصویروں کو دیکھ کر اندازہ لگانا شروع کیا تو جس تصویر کے متعلق میں نے اندازہ لگایا تھا کہ یہ نہایت شریف ہے اس کے متعلق دوسری طرف پڑھا تو لکھا تھا کہ یہ مشہور ڈاکو ہے اور جس کے متعلق میں نے اندازہ لگایا تھا کہ یہ ڈاکو ہے اس کے متعلق لکھا تھا کہ یہ پرلے درجہ کا شریف انسان ہے۔عام طور پر خونریزی اور فساد کرنے والے لوگوں کے چہرے خراب ہو جاتے ہیں مگر بعض لوگوں نے فن بنایا ہوتا ہے کہ باوجود اس قسم کے افعال قبیحہ کے ان کے چہرے خراب نہیں ہوتے۔اس رسالہ والوں نے بھی لاکھوں ڈاکوؤں میں سے ایک کو چن کر دکھا دیا جس کا چہرہ شریفوں والا نظر آتا تھا اور لاکھوں شریفوں میں سے ایک کو چن لیا جس کا چہرہ با وجود شرافت کے