انوارالعلوم (جلد 19) — Page 302
انوار العلوم جلد ۱۹ الفضل کے اداریہ جات استقامت ، وہ جانبازی، وہ قربانی کی روح جو اُنہوں نے اُس وقت دکھائی اگر ہم کو یاد نہ آئے تو محض حسین حسین پکارنے سے نہ تو اس عظیم الشان نام کی وہ عزت و تکریم ہمارے دل میں پیدا ہو سکتی ہے جس کا وہ مستحق ہے اور نہ ہماری اپنی ذات کو کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے بلکہ ان واقعات کو دُہرانے کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔اگر ہم ان واقعات سے سبق حاصل نہ کریں محض ان واقعات کو دُہرا دینا کوئی معنی نہیں رکھتا جب تک ان کو اس طرح پیش نہ کیا جائے کہ سن کر ہم میں بھی ویسے ہی کام کرنے کے جذبات پیدا نہ ہوں ، ویسا ہی جوش نہ اُٹھے۔وہ مثالی قربانی جو خاتونِ جنت حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنت حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبی خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس عظیم الشان بیٹے نے میدان کربلا میں پیش کی ہم اس کی تفصیلات میں نہیں جانا چاہتے۔ایک معمولی لکھا پڑھا انسان بلکہ ان پڑھ مسلمان بھی کچھ نہ کچھ ان کا علم ضرور رکھتا ہے۔اس وقت ہم جو کہنا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ آؤ اس نام کو ہم بے فائدہ آرٹ رٹ کر بدنام نہ کریں بلکہ ان کاموں کی تقلید کی کوشش کریں جو اس ہستی نے میدان کربلا میں دکھا کر ایک عالم سے خراج تحسین حاصل کیا جن کی وجہ سے یہ معمولی سا نام زندہ ہو گیا۔اور ہمیشہ کے لئے زندہ ہو گیا اور ان باتوں پر غور کریں جن باتوں سے متاثر ہو کر محمد علی جو ہر مرحوم نے یہ شعر کہا تھا۔ع قتل حسین اصل میں مرگِ یزید ہے اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد اس وقت ہر مسلمان میدانِ کربلا میں ہے اگر ہم کو اس میدان میں مرنا ہی ہے تو آؤ ہم بھی حسین کی موت مریں تا کہ اس کی طرح ہما را نام بھی زندہ جاوید ہو۔ورنہ جو پیدا ہوتا ہے ایک دن مرتا ہی ہے۔کتنے تھے جن کے نام حسین تھے جو مر گئے مگر ان کو کوئی یا دبھی نہیں کرتا مگر ایک حسین ہے صرف ایک حسین جس کو دنیا بھلانا بھی چاہے تو نہیں بھلا سکتی جس کو دل سے مٹانا بھی چاہے تو نہیں مٹا سکتی کیونکہ اس حسین نے اپنے نام کو اپنے کام سے صفحہ ہستی پر پتھر کی لکیر بنا دیا ہے کیونکہ اس نام کی پشت و پناہ وہ عظیم الشان قربانی ہے جو مُردہ ناموں کے جسموں میں جان ڈال دیا کرتی ہے کیونکہ اس نے اپنے نام کو ایسے ماحول میں رکھ دیا ہے جس سے وہ روشنی کا مینار