انوارالعلوم (جلد 19) — Page 298
انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۹۸ الفضل کے اداریہ جات جتنے آدمی مارے اور جتنے گھر ضبط کئے ان سب کو کانگرس ریزولیوشن نے معاف کر دیا ہے اور آئندہ کے لئے حکم دیا ہے کہ ایسا کام نہیں ہونا چاہئے۔کیا ان حالات میں کانگرس کے ریزولیوشن پر کامیابی سے عمل کیا جا سکتا ہے؟ یہی بات ہم پاکستان کے متعلق بھی کہتے ہیں۔پاکستان میں بھی ایسے مقام ضرور ہیں جہاں سے ہندوؤں کو جبراً نکالا گیا ہے یا ایسے حالات پیدا کر دیئے گئے کہ وہ نکل جائیں۔اگر پاکستان گورنمنٹ ہندوؤں کو اپنے ملک میں رکھنا چاہتی ہے تو ان کو بھی یہی طریق اختیار کرنا ہوگا کہ جو پچھلے مجرم ہیں اُن کو پکڑیں اور سزا دیں۔آخر لاکھوں آدمی پھونکوں سے تو نہیں مر گئے۔لوگ اربوں کی جائداد چھوڑ کر بلا وجہ تو نہیں بھاگ گئے۔کوئی مارنے والا آدمی ضرور تھا ، لوگوں کے پاس ایسے ہتھیار ضرور تھے جن سے قتل کی وارد تیں ہوئیں اور حالات ضرور اس طرح بگڑے کہ غیر قوموں کے لوگوں نے اپنے لئے اس ملک میں پناہ کی کوئی صورت نہ دیکھی اور اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔جب تک ان حالات کے پیدا کرنے والوں اور ان قاتلوں اور ان عورتوں کو پکڑنے والوں کو سخت سزائیں نہ دی جائیں گی جن کے افعال نے پاکستان اور ہندوستان سے نکلنے پر اقلیتوں کو مجبور کر دیا ہے ، اُس وقت تک امن کے ریزولیوشن کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔کل کو پھر ایک جوش اُٹھے گا اور پھر دونوں طرف خون خرابہ شروع ہو جائے گا اور پھر ملک کی سیاسی انجمنیں ایک ریز و لیوشن پاس کر دیں گی کہ آئندہ خبر دارا ایسا مت ہو۔کبھی پچھلے حساب کی صفائی کے بغیر آئندہ کی کوئی صفائی ہوا کرتی ہے؟ لاکھوں لاکھ قاتل ہندوستان یونین میں پھر رہا ہے وہ سٹیجوں پر کھڑے ہو کر تقریر میں بھی کر رہا ہے ، وہ اخباروں میں مضامین بھی لکھ رہا ہے، وہ کانگرس کے جلسوں میں ممبروں کے طور پر شامل بھی ہو رہا ہے لیکن ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔لاکھوں لاکھ مسلمان جو مارا گیا ہے اس کے خون کی تحقیقات کوئی نہیں ہو رہی۔ضلع گورداسپور میں ہی جس سے سات لاکھ کے قریب مسلمانوں کو مار کر نکال دیا گیا ہے، دو اڑھائی سو مسلمان اس لئے جیل خانوں میں سڑ رہے ہیں کہ اُنہوں نے سکھوں کو یا ہندوؤں کو مارنے کی کوشش کی لیکن سکھ ایک بھی اس جرم میں قید نہیں ہے کہ اس نے مسلمانوں کو مارا اور ان کے گھروں کو لوٹا اور اُن کی جائدادوں پر قبضہ کیا۔کیا کوئی عظمند انسان اس بات کو باور کر سکتا ہے کہ حکومت کو اس قوم کے مجرم تو نظر آ سکتے تھے جن کو