انوارالعلوم (جلد 19) — Page 9
انوار العلوم جلد ۱۹ زمانہ جاہلیت میں اہل عرب کی خوبیاں اور اُن کا پس منظر اس کی وجہ خالص سیاسی اتحاد تھا۔عیسائیوں نے اس امر کو تسلیم کر لیا کہ اسلام کے آنے پر بھی ترقی اور ارتقاء جاری رہا اور مسلمانوں نے تسلیم کر لیا کہ اسلام سے پیشتر بھی عربوں میں خوبیاں موجود تھیں پس یہ ہے اس موضوع کا پس منظر۔باقی رہا اصل سوال تو وہ یہ ہے کہ اگر اسلام سے پیشتر بھی عربوں کے اندر خوبیاں پائی جاتی تھیں تو اسلام کی فوقیت اور اُس کا مَا بِهِ الْاِمتیاز طُرّہ کیا ہوا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ کسی قوم کے اندر بعض خوبیاں چاہے وہ قومی ہوں یا انفرادی پایا جانا اور بات ہے اور ایک ایسی خوبی اس کے اندر ہونا جو اُ سے تمام دنیا کا اُستاد بنا دے اور بات ہے۔اسلام یہ نہیں کہتا کہ عربوں کے اندر پہلے کوئی خوبی نہ تھی اور نہ ہی ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ کا یہ مفہوم ہے کہ اسلام سے پہلے عربوں میں کوئی خوبی نہ تھی۔اصل بات یہ ہے کہ خوبیاں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ایک تو ہوتا ہے ذاتی کیریکٹر یعنی ہر قوم اپنے حالات کے لحاظ سے ایک چیز کو لے لیتی ہے اور اس پر عمل کرنا شروع کر دیتی ہے۔مثلاً حدیثوں اور تاریخوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عرب قوم اسلام سے پہلے بھی مہمان نواز تھی مگر ہم دوسری طرف دیکھتے ہیں کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی کا نزول ہوا اور آپ گھبرائے ہوئے گھر پہنچے اور حضرت خدیجہ سے فرمایا لَقَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِی تو حضرت خدیجہ نے کہا كَلَّا أَبْشِرُ فَوَاللَّهِ لَا يُخْزِيْكَ اللهُ اَبَداً إِنَّكَ لَتصِلُ الرَّحِمَ وَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ وَتَحْمِلُ الْكُلَّ وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ وَ تَقْرِى الضَّيْفَ وَتُعِيْنُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ ٥ یعنی آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں خدا کی قسم ! اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی ضائع نہیں کرے گا کیونکہ آپ میں کئی خوبیاں پائی جاتی ہیں چنانچہ منجملہ اور خوبیوں کے حضرت خدیجہ نے یہ بھی کہا کہ خدا آپ کو اس لئے نہیں چھوڑے گا کہ آپ مہمان نواز ہیں۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ ادھر حدیثوں سے یہ بات ثابت شدہ ہے کہ عرب آپ کی بعثت سے پہلے بھی مہمان نواز تھے اُدھر حضرت خدیجہ نے آپ کی یہ خوبی بیان کی ہے کہ آپ مہمان نواز ہیں جب سارا عرب مہمان نوازی کرتا تھا تو حضرت خدیجہ نے امتیازی رنگ میں آپ کی مہمان نوازی کا ذکر کیوں کیا۔حضرت خدیجہ نے آپ کی یہ خوبی اسی لئے بیان کی کہ یہ آپ کو دوسرے عربوں پر ممتاز کر دیتی تھی۔یوں تو مہمان نوازی عربوں میں عام پائی جاتی تھی اور حاتم طائی کے متعلق بھی بہت سی باتیں مشہور ہیں چنانچہ کہتے ہیں کہ کوئی شخص اس کے پاس