انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 262

انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۶۲ الفضل کے اداریہ جات بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ کشمیر اور پاکستان یوں تو مسلمان عام طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ کشمیر کا معاملہ نہایت اہم ہے لیکن اس کی اہمیت کا پورا انکشاف انہیں حاصل نہیں۔خیال کیا جاتا ہے کہ کشمیر کا ہندوستان سے الحاق شاید کوئی نیا مسئلہ ہے مگر یہ بات درست نہیں حقیقت یہ ہے کہ کشمیر کے ہندوستان سے الحاق کی داغ بیل بہت عرصہ پہلے پڑ چکی تھی۔باؤنڈری کے فیصلہ سے عرصہ پہلے ہندوستان کی تقسیم کے سوال کا فیصلہ ہوتے ہی لارڈ مونٹ بیٹن کشمیر گئے اور ان کے سفر کا مقصد وحید یہی تھا کہ وہ مہا راجہ کشمیر کو ہندوستان میں شامل ہونے کی تحریک کریں۔حالات نے ثابت کر دیا ہے کہ لارڈ مونٹ بیٹن گلی طور پر ہندوؤں کی تائید میں رہے ہیں اور مسلمانوں کے مفاد کی اُنہوں نے کبھی بھی پرواہ نہیں کی۔اگر انہوں نے پاکستان کے بنانے کے حق میں رائے دی تو اس یقین کے ساتھ دی کہ تھوڑے ہی عرصہ میں پاکستان تباہ ہو کر پھر ہندوستان میں شامل ہو جائے گا اور ان کا سارا زور اسی بات کے لئے خرچ ہوتا رہا۔جب لارڈ مونٹ بیٹن کشمیر کے راجہ کو نصیحت کرنے کیلئے وہاں گئے اور اسی طرح کانگرس کے اور لیڈر بھی جیسے مسٹر گاندھی وہاں گئے تو لازمی بات ہے کہ ان بحثوں میں گورداسپور کے ضلع کا سوال بھی پیدا ہوا ہو گا۔کشمیر اگر ہندوستان یونین سے ملتا اور تحصیل بٹالہ اور تحصیل گورداسپور ہندوستان یونین میں شامل نہ ہوتے تو اس کے معنی یہ تھے کہ کشمیر کا ہندوستان سے تعلق صرف ضلع کانگڑہ کے ذریعہ پیدا کیا جا سکتا تھا۔ہر شخص جو پنجاب کے جغرافیہ سے واقف ہے سمجھ سکتا ہے کہ کانگڑہ کے ذریعہ سے کشمیر کا صحیح تعلق ہندوستان سے پیدا ہونا قریباً ناممکن ہے۔نہ کانگڑہ کے ذریعہ سے ہندوستان کی چیز میں کشمیر پہنچ سکتی تھیں نہ کشمیر کی چیزیں ہندوستان پہنچ سکتی تھیں اس لئے اُسی وقت یہ بھی فیصلہ کر دیا گیا کہ تحصیل گورداسپور اور تحصیل بٹالہ ہندوستان میں شامل کی جائیں تا کہ مادھو پور کے رستے پٹھانکوٹ سے کشمیر کا تعلق