انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 251 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 251

انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۵۱ الفضل کے اداریہ جات پنجاب کا زمیندار بالکل تباہ ہو جائے گا۔بہر حال یا سندھ کا تاجر تباہ ہوگا یا پنجاب کا زمیندار تباہ ہوگا۔اس کا ایک ہی علاج ہے کہ پنجاب کے روئی کے کارخانے فوراً چلنے شروع ہو جائیں اور اتنی کثرت سے کارخانے چلیں کہ مقابلہ قائم رہے۔اگر ہر منڈی میں ایک ایک کارخانہ چلایا گیا اور جو کارخانے کھلے وہ ایک دوسرے سے دُور دُور واقع ہوئے تو پھر بھی کارخانہ دار قیمتوں کو بزور گرانے کی کوشش کریں گے۔پس پنجاب کے زمیندار کی حالت کو درست رکھنے کیلئے کپاس کے کارخانے فوراً چلائے جانے چاہئیں اور اتنی تعداد میں چلائے جانے چاہئیں کہ کارخانوں کا مقابلہ قائم رہے اور زمیندار کو مناسب قیمت مل سکے۔ہمیں معلوم ہوا ہے کہ پنجاب گورنمنٹ جننگ کے کارخانوں کو بھی ایک قومی صنعت بنانا چاہتی ہے اس میں تو کوئی قطبہ نہیں کہ ملک کی چند صنعتوں کو قومی بنانا مفید ہوسکتا ہے لیکن تمام صنعتوں کو قومی بنانا کبھی بھی مفید نہیں ہوتا۔اس سے مقابلہ کی روح ماری جاتی ہے اور جمہوریت کو سخت نقصان پہنچتا ہے مگر اس مضمون کے بارہ میں ہم اس وقت کچھ لکھنا نہیں چاہتے۔ہم صرف اس طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں کہ اگر روئی کے کارخانے سرکاری ہوئے تو لازماً روئی کی قیمتیں گر جائیں گی کیونکہ قیمتیں گاہکوں کی زیادتی کی وجہ سے بڑھتی ہیں۔جب ایک چیز کے حد سے زیادہ گا ہک ہوں تو اُس کی قیمت حد سے زیادہ بڑھ جاتی ہے اور جب ایک چیز کے حد سے کم گا ہک ہوں تو اُس کی قیمت حد سے زیادہ گر جاتی ہے۔اگر جننگ کے کارخانوں کی مالک گورنمنٹ ہوئی تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ سارے پنجاب میں گا ہک ایک ہی شخص ہوگا یعنی حکومت۔اور جب گاہک ایک شخص ہوا تو لازماً ہر زمیندار کو اس کے پاس اپنی کپاس پیچنی پڑے گی اور جب گاہک کو پتہ ہو گا کہ میرے سوا یہ زمیندار کسی اور کے پاس کپاس نہیں بیچ سکتا تو یقیناً گاہک جو چاہے گا قیمت تجویز کرے گا اور زمیندار مجبور ہوگا کہ اُسی قیمت پر اپنی جنس کو بیچے اور اس سے پاکستان کی اقتصادیات بالکل تباہ ہو جائے گی اور انگریز کا وہ خدشہ بلکہ اب تو یوں کہنا چاہئے کہ وہ خواہش جو وہ پاکستان کی اقتصادی تباہی کے متعلق اپنے دل میں رکھتا تھا اور جس کے بغیر ہندوستان کے اتحاد اور روس کے دفاع کے مسائل حل نہیں ہوتے تھے پوری ہو جائے گی اور مسلمان اس آزادی کو کھو بیٹھیں گے جس کے لئے اُنہوں نے اتنی قربانی اور جد و جہد کی ہے۔