انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 232 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 232

انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۳۲ الفضل کے اداریہ جات کے لئے دے۔یہ ٹرینگ مقامی ہونی چاہئے یعنی کسی سپاہی کو اپنا شہر چھوڑ کر کسی دوسری جگہ جانے کی ضرورت محسوس نہ ہوتا کہ وہ اپنا کام چھوڑے بغیر ایسی ٹرینگ حاصل کر سکے۔اس صورت میں زیر تعلیم سپاہیوں پر کچھ بھی خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی اور چھ ماہ کی ٹرینینگ کے بعد وہ ایک اوسط درجہ کے سپاہی بن جائیں گے۔افسروں کی ٹرینگ کا اصول یہ ہو کہ اس طرح چھ مہینہ کی ٹرینینگ لینے کے بعد دو مہینے کا مستقل کورس ان کے لئے مقرر کیا جائے جس پر انہیں کمان کرنے کے اصول سکھائے جائیں۔اگر اس تجویز کے مطابق پچاس ہزار کی ٹرینینگ کو مد نظر رکھتے ہوئے پہلے بیس ہزار آدمی کی ٹرینینگ شروع کی جائے تو ایک ہزار معلم رکھنا پڑے گا جن کا عہدہ جمعدار کا ہوگا اور ایک لاکھ روپیہ ماہوار ان لوگوں کی تنخواہوں اور راشنوں پر خرچ ہوگا۔ہمیں ہزار رائفل اور ور دی وغیرہ پر کوئی ۳۰۔۳۵لاکھ روپیہ خرچ ہو گا چونکہ سکھانے والے افسر تنخواہ دار ہوں گے وہ ایک حصہ کی صبح ٹریننگ کر سکتے ہیں اور ایک حصہ کی شام کو۔اس طرح آدھے افسر کام آ سکتے ہیں جس کے یہ معنی ہیں کہ بجائے ایک ہزار آدمی کے پانچ سو آدمی سے ہی کام چل سکتا ہے اور بجائے ایک لاکھ روپیہ کے پچاس ہزار روپیہ ماہوار سے کام چل سکتا ہے۔اتنے افسر چھ ماہ میں بیس ہزار آدمی کو ٹریننگ دے سکتے ہیں اور سارا خرچ اس ٹریننگ پر کوئی چالیس لاکھ روپیہ سالانہ ہو گا۔جب مقامی لوگ کام سیکھ جائیں تو اگلے چھ ماہ میں ان میں سے ہوشیار آدمیوں کو ایک ایک مہینہ کی خاص تعلیم دلا کر فوجی معلم کا کا م سکھایا جا سکتا ہے اور پھر اپنے اپنے علاقہ میں ان کو فوجی معلم مقرر کیا جا سکتا ہے۔اس صورت میں اگر کوئی شخص طوعی طور پر کام کرنے کیلئے تیار نہ ہو تو اسے ۲۰، ۲۵ روپے ماہوار الاؤنس دینے سے کام لیا جا سکے گا۔ایسے لوگوں کی امداد کے ساتھ سال نہیں تو ڈیڑھ سال میں ایک لاکھ آدمی ٹیریٹوریل فورس کا تیار کیا جا سکتا ہے اور پھر اگلے سالوں میں یہ طاقت اور بھی وسیع کی جا سکتی ہے۔دوسرے اس ٹیریٹوریل فورس کے علاوہ تمام ملک میں فوجی کلمہیں بنا دینی چاہئیں۔ان فوجی کلبوں کا اصول یہ ہونا چاہئے کہ جو لوگ اس کے ممبر ہوں وہ اپنے خرچ پر ٹرینگ لیں۔گورنمنٹ ان کے لئے صرف معلم مہیا کرے یا رائفل اور کا رتوس، باقی وردی وہ خود اپنے روپیہ سے خرید ہیں۔یہ فوجی کلبیں بڑے اور چھوٹے شہروں میں ہوسکتی ہیں۔گاؤں میں ان کا چلنا ممکن نہیں لیکن پاکستان