انوارالعلوم (جلد 19) — Page 227
انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۲۷ الفضل کے اداریہ جات کر سولہ سو میل لمبی ہے بلکہ بلوچستان اور افغانستان کی سرحدوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو انہیں سو میل لمبی ہے اگر کشمیر پاکستان میں شامل ہو جائے اور اس کی سرحد کو نکال دیا جائے تو پھر یہ سرحد پندرہ سو میل لمبی ہے اور اگر افغانستان کی سرحد کو بھی نکال دیا جائے تو پھر بھی ہندوستان سے ملنے والی سرحد چھ سو میل ہے اور پاکستان کی موجودہ فوج میں سے جو فوج ایک وقت میں سرحد پر رکھی جا سکتی ہے اُس کی تعداد کسی وقت میں ۱۸ ہزار سے زیادہ نہیں ہوسکتی بلکہ یہ زیادہ قرین قیاس ہے کہ ایک وقت میں صرف ۱۲ ہزار فوج استعمال کی جا سکے۔جس کے یہ معنی ہیں کہ ہر میل کی حفاظت کیلئے صرف تمہیں سپاہی ہونگے۔اس میں کوئی مبہ نہیں کہ کوئی فوج ساری سرحد پر پھیل کر کھڑی نہیں ہوتی لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ اتنی لمبی سرحد میں بیسیوں چوکیاں بنانی پڑیں گی اگر پچاس چوکی رکھی جائیں اور فی چو کی دو پلٹنیں رکھی جائیں تو سات ہزار فوج تو صرف اسی میں لگ جائے گی۔باقی پانچ ہزار فوج رہ گئی ، پانچ ہزار فوج اتنے بڑے علاقہ میں لڑ ہی کیا سکتی ہے۔صرف چھ سو میل لمبی سرحد کی حفاظت کے لئے بھی ہمارے پاس کم سے کم ایک لاکھ سپاہی اگلی صف میں ہونا چاہئے۔پاکستان کی آبادی صوبہ سرحد اور سندھ کو ملا کر دوکروڑ ۰ ۸ ہزار ہے۔اگر قبائلی علاقوں کو بھی ملا لیا جائے تو تقریباً ۳ کروڑ ہو جائے گی۔اگر کشمیر بھی شامل ہو جائے تو کشمیر کی ۳۲ لاکھ مسلمان آبادی مل کر یہ تعدا د ۳ کروڑ ۳۰لا کھ تک پہنچ جاتی ہے۔اس آبادی میں سے صرف ۶۰ لاکھ آبادی ایسی ہے جس میں سے اچھا سپا ہی نہیں مل سکتا۔باقی ۲ کروڑ ۰ ۷ لاکھ کی آبادی ایسی ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے نہایت ہی شاندار سپاہی پیدا کرتی رہی ہے اور کر سکتی ہے۔سرحد کا پٹھان ، آزاد علاقہ کا قبائلی ، پونچھ ، میر پور، کوٹلی اور مظفر آباد کا پہاڑی، پنجاب کا پٹھان، راجپوت ، بلوچ اور جاٹ یہ سب کے سب نہایت اعلیٰ درجہ کے سپاہی ہیں اور صرف مرنا ہی نہیں جانتے بلکہ دشمن کو مارنا بھی جانتے ہیں۔قومی جنگوں میں چھ فیصدی سے لے کر ۱۶ فیصدی تک کی آبادی لڑائی میں کارآمد ہوتی ہے اوسطاً اگر ۱۰ فیصدی سمجھی جائے تو مشرقی پاکستان میں سے ۲۷ لاکھ سپاہی مہیا کیا جا سکتا ہے۔اس کے مقابل میں ہندوستان کی جنگی نفری بہت کم ہے۔ہندوستان کا ساٹھ فیصدی آدمی ایسا ہے جو جنگ کے قابل نہیں۔ریاستوں کو نکال کر ہندوستان کی آبادی کوئی ۲۰ کروڑ ہے جس میں سے ۱۲ کروڑ آدمی تو کسی صورت میں بھی لڑنے کے قابل۔