انوارالعلوم (جلد 19) — Page 166
انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۶۶ الفضل کے اداریہ جات بنگال اور آزاد بنگال کی دو کا کلوں سے سے ہندوؤں کو بظاہر شکار کرنا شروع کر دیا ہے مگر حقیقت میں خود شکار ہو رہے ہیں اور کشتی کو منجھدارے میں ڈبونے کے لئے تیار ہیں۔مسلمانوں پر اللہ ہی رحم کرے۔کوئی نہیں سوچتا کہ اس تقسیم کا سوال اُٹھایا ہی کیوں گیا تھا۔تقسیم ہند کے مطالبہ کی اصل وجہ یہ تھی کہ ملک کے ایک حصہ میں جہاں مسلمان زیادہ ہیں مسلمانوں کو اپنی تہذیب کے قوانین کے مطابق بڑھنے اور پھلنے پھولنے کا موقع مل جائے۔بے شک جو مسلمان ہندو اکثریت کے صوبوں میں رہ جاتے تھے انہیں یہ کہہ کر تسلی دلائی جاتی تھی کہ چونکہ اسلامی علاقوں میں ہندو بھی موجود ہونگے اس لئے ان کے خیال سے آپ لوگوں کو ہندو تکلیف نہ دیں گے۔ظاہر ہے کہ یہ مقصد ثانوی حیثیت رکھتا تھا۔اصل مقصد یہ تھا کہ ہندوستان میں کچھ علاقہ میں مسلمان اپنی مخصوص تہذیب اور قومیت کی بناء پر ترقی کر سکیں قطع نظر اس کے کہ کس قدر حصہ ملک کا مسلمانوں کے قبضہ میں آئے۔یہ مقصد ہر ایک ایسی اسلامی حکومت کے ذریعہ سے پورا ہوسکتا ہے جو اپنی ذات میں اپنی خود مختارانہ حیثیت کو قائم رکھ سکے۔پس یہ بحث اصل مدعا سے دور کا بھی تعلق نہیں رکھتی کہ پنجاب کا کتنا حصہ اسلامی حکومت میں آنا چاہئے۔اصل سوال یہ ہے کہ کتنا حصہ اسلامی حکومت میں آسکتا ہے اور جو آ سکتا ہے کیا وہ ایک آزاد اور خود مختار حیثیت سے اپنے آپ کو قائم رکھ سکتا ہے؟ سکھوں ، ہندوؤں کا یہ مطالبہ ہے کہ جس حصہ میں وہ زیادہ ہیں وہ حصہ باقی پنجاب سے الگ کر دیا جائے۔یہ مطالبہ اُن کا اِس لئے نہیں کہ وہ پنجاب کے اس حصہ میں الگ حکومت چاہتے ہیں۔یہ مطالبہ اس لئے ہے کہ تا اس مطالبہ سے ڈر کر مسلمان ہندوستان سے الگ ہونے کا مطالبہ ترک کر دیں گو یہ مطالبہ اصولی طور پر درست نہیں۔مسلمانوں کا مطالبہ پنجاب بنگال وغیرہ صوبوں میں علیحدہ حکومت قائم کرنے کا اِس دلیل پر نہ تھا کہ ان کے ہر حصہ میں مسلمان زیادہ ہیں بلکہ اس مطالبہ کی بنیاد یہ تھی کہ اگر سارے ہندوستان میں ہندو تہذیب، ہندو زبان، ہند و تمدن کے بڑھنے کے مواقع پیدا کئے جائیں گے تو ہندوستان کے ایک حصہ میں مسلمانوں کے تمدن اور ان کی زبان اور ان کی تہذیب کے بڑھنے کا بھی موقع پیدا ہونا چاہئے۔اگر مسلمانوں کا یہ مطالبہ غلط ہے تو تقسیم ہندوستان کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔لیکن اگر ان کے اس