انوارالعلوم (جلد 19) — Page 159
انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۵۹ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے تمام اہم واقعات آپ کو خالی ہاتھ واپس نہیں بھیجا بلکہ یونس بن متی پر ایمان لانے والا ایک شخص آپ کو دے دیا اور اس نے آپ کو ہی انگور نہ کھلائے بلکہ خود بھی آپ سے روحانی انگور کھا کر واپس ہوا۔اُس وقت عرش پر خدا تعالیٰ کہہ رہا تھا آلیس الله بکاف عبده اے محمد ! تو یہ خیال کر رہا تھا کہ اس سفر میں توحید کے ماننے والوں میں اضافہ نہیں ہوا مگر کیا ہم نے تجھے ایک مخلص اور با وفا آدمی دیا یا نہیں دیا۔اس کے بعد ایک اور شاندار نظارہ ہمیں نظر آتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس باغ میں تھوڑی دیر تک آرام فرمانے کے بعد وہاں سے روانہ ہوئے اور نخلہ میں پہنچے جو مکہ سے ایک منزل کے فاصلہ پر واقع ہے۔وہاں کچھ دن قیام کرنے کے بعد آپ نے مکہ جانے کا ارادہ کیا مگر مکہ والوں کا یہ قانون تھا کہ ایک دفعہ جو شخص شہر کو چھوڑ جاتا تھا اُس کے شہریت کے حقوق بھی جاتے رہتے تھے۔یعنی جب تک کوئی شخص ملکہ کو چھوڑ کر نہیں جاتا تھا اسے سیٹزن (Citizen) یعنی شہریت کے حقوق حاصل ہوتے تھے مگر شہر کو ایک دفعہ چھوڑ جانے کے بعد جبکہ شہر کے لوگ اس سے ناراض ہوں اُس کے وہ حقوق چھن جاتے تھے اور دوبارہ اُس شہر میں آنے پر وہ حقوق اُسے اس وقت تک نہ مل سکتے تھے جب تک قانون اُسے اس کی اجازت نہ دے اور وہ قانون یہ تھا کہ شہر کا کوئی رئیس اُسے اپنی حفاظت میں لے لے۔چنانچہ آپ نے اس قانون پر عمل کیا اور حضرت زید کو مکہ کے ایک رئیس مطعم بن عدی کے پاس بھیجا اور کہلا بھیجا کہ میں مکہ میں دوبارہ داخل ہونا چاہتا ہوں کیا تم اس کام میں میری مدد کر سکتے ہو؟ آپ نے کسی ایسے شخص کو پیغام نہ بھیجا جو مخالفت میں پُر جوش نہ تھا بلکہ اس شخص کو پیغام بھیجا جو اسلام کا اشد ترین مخالف تھا اگر کوئی مرنجان مرنج آدمی ہوتا تو لوگ سمجھتے کہ وہ نرم دل آدمی تھا اس لئے اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی حفاظت میں لے کر مکہ میں داخل کر لیا مگر مطعم بن عدی اسلام کا سخت مخالف تھا مگر ساتھ ہی یہ بات بھی تھی کہ ایسے حالات میں پناہ دینے سے انکار کرنا شرفائے عرب کی فطرت کے خلاف تھا چنانچہ جب حضرت زید نے مطعم بن عدی سے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری طرف پیغام بھیجا ہے کہ کیا تم مجھے اپنی حفاظت میں لے کر مجھے شہری حقوق دلا سکتے ہو؟ تو وہ بلا حیل و حجت کھڑا ہو گیا اور اس نے اپنے تمام بیٹوں کو جمع کیا اور وہ سب مسلح