انوارالعلوم (جلد 19) — Page xvii
انوار العلوم جلد ۱۹ تعارف کنند تفصیل سے روشنی ڈالی۔۔بیرونی مشنوں کی مساعی اور حالات و واقعات پر روشنی ڈالتے ہوئے لندن مشن کی خدمات کا بالخصوص ذکر فرمایا نیز ایک نواحمدی انگریز مبلغ مکرم بشیر احمد آرچرڈ صاحب کا ذکر خیر بھی بیان فرمایا اسی طرح جرمن مشن ، ہالینڈ مشن ، سوئٹزرلینڈ ، امریکہ، شام، فلسطین اور انڈو نیشیا کے مشنوں کی مساعی پر روشنی ڈالی۔۹۔حضور نے پاکستان میں جماعت احمدیہ کے لئے ایک نئے مرکز کی ضرورت پر زور دیا۔۱۰۔حضور نے افراد جماعت کو تجارت اور صنعت میں دلچسپی پیدا کرنے کے لئے ایک تجارتی سکیم سے متعارف کروایا اور تجارت وصنعت میں افراد جماعت کو دلچسپی لینے کی ضرورت پر زور دیا۔ا۔آخر پر حضور نے اس سوال پر روشنی ڈالی کہ قادیان سے ہماری جماعت کو ہجرت کیوں کرنی پڑی؟ اس سلسلہ میں حضور نے فرمایا کہ تذکرہ میں بعض الہامات اور پیشگوئیوں کی روشنی میں مفصل طور پر وضاحت فرمائی کہ ہماری یہ ہجرت اللہ تعالیٰ کی پیشگوئیوں کے عین مطابق ہے۔(۱۱) دستور اسلامی یا اسلامی آئین اساسی حضرت مصلح موعود نے قادیان سے لاہور ہجرت کے بعد پاکستان کے مستقبل کے موضوع پر جو چھ لیکچر دیئے۔زیر نظر لیکچر ان میں سے آخری لیکچر تھا جو حضور نے یو نیورسٹی ہال لا ہور میں دستور اسلامی یا اسلامی آئین اساسی کے موضوع پر دیا۔یہ لیکچر افادہ عام کیلئے وکالت دیوان تحریک جدید نے مؤرخہ ۱۸ / فروری ۱۹۴۸ ء کو ایک پمفلٹ کی صورت میں شائع کیا تھا اور اب دوسری مرتبہ انوار العلوم کی اس جلد میں شائع کیا جارہا ہے۔اس خطاب میں حضور نے دستور اسلامی کی وضاحت کرتے ہوئے اس پہلو پر روشنی ڈالی کہ پاکستان میں کس قسم کا آئین یا دستور نافذ ہونا چاہئے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں:۔پس اگر پاکستان کی کانسٹی ٹیوشن میں مسلمان جن کی بھاری اکثریت ہوگی