انوارالعلوم (جلد 19) — Page 141
انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۴۱ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے تمام اہم واقعات اور اس کی حکومت میں کسی پر ظلم نہیں ہوتا چنانچہ ہم یہاں آگئے اس لئے اے بادشاہ ! ہم امید کرتے ہیں کہ آپ کے ماتحت ہم پر ظلم نہ ہو گا۔بادشاہ حضرت جعفر کی اس تقریر سے بہت متاثر ہوا اور کہنے لگا اچھا وہ کلام جو تمہارے رسول پر اُترا ہے مجھے بھی سناؤ۔اس پر حضرت جعفر نے نہایت خوش الحانی اور رقت کے ساتھ سورہ مریم کی ابتدائی آیات تلاوت کیں جن کو سُن کر نجاشی کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور اُس نے کہا خدا کی قسم! یہ کلام اور ہمارے مسیح کا کلام ایک ہی طرح کا ہے۔اس کے بعد وہ قریش مکہ کے وفد سے کہنے لگا جاؤ میں تمہارے ساتھ ان لوگوں کو کبھی نہ بھیجوں گا یہ کہہ کر نجاشی نے ان کے تھے بھی واپس کر دیئے۔قریش کا وفد یہ دیکھ کر کہ ہمیں ناکامی اور نامرادی کا سامنا ہوا ہے سخت نادم ہوا مگر انہوں نے ایک چال چلی کہ وہ دوسرے دن پھر دربار میں حاضر ہوئے اور کچھ عیسائی پادریوں کو بھی تھے وغیرہ دے کر ساتھ لے گئے اور بادشاہ سے کہا اے بادشاہ ! کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ پناہ گزیں آپ کے نبی حضرت مسیح کے متعلق کیا عقیدہ رکھتے ہیں؟ نجاشی نے مسلمانوں کو پھر بلو آیا اور پوچھا تم لوگ مسیح کے متعلق کیا عقیدہ رکھتے ہو؟ حضرت جعفر نے عرض کیا اے بادشاہ ! ہمارے اعتقاد کی رو سے حضرت عیسی خدا تعالیٰ کا ایک مقرب بندہ اور سچا رسول تھا مگر خدا نہ تھا اسی طرح حضرت مسیح کی والدہ نیک اور پارسا عورت تھیں مگر خدا نہ تھیں۔یہ سن کر نجاشی کہنے لگا یہ لوگ بالکل ٹھیک کہتے ہیں میں بھی مسیح کو خدا نہیں مانتا۔اُس وقت پادری جوش میں آگئے اور کہا آپ نے عیسائیت کی ہتک کی ہے ہم عوام کو آپ کے خلاف اکسائیں گے اور آپ کی بادشاہت خطرہ میں پڑ جائے گی۔بادشاہ نے کہا جب میں بچہ تھا اور دوستوں نے میرا ساتھ چھوڑ دیا تھا تو اُس وقت بھی خدا تعالیٰ نے میری مدد کی تھی اور اب بھی میں اُسی پر امید رکھتا ہوں تم جو کچھ کرنا چاہتے ہو بے شک کرو۔یہ اشارہ نجاشی نے ایک پُرانے واقعہ کی طرف کیا تھا اور وہ یہ کہ نجاشی ابھی بچہ ہی تھا کہ اس کا والد فوت ہو گیا اس لئے اس کے چا کو عارضی طور پر بادشاہ بنایا گیا تا کہ نجاشی کی بلوغت تک وہ بادشاہت کے کام کو سر انجام دے مگر جب نجاشی جوان ہوا تو چچانے خیال کیا کہ میں اتنے عرصہ سے بادشاہت کر رہا ہوں اب اس کو کیوں دے دوں۔چنانچہ اُس کے اور اُس کے چچا کے درمیان تنازعہ ہوا نو جوانوں نے نجاشی کا ساتھ دیا اور اُس کا چچا حکومت سے