انوارالعلوم (جلد 19) — Page 126
انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۲۶ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے تمام اہم واقعات بڑا کریم ہے۔تیرا رب وہ ہے جس نے انسان کو قلم کے ساتھ سکھایا اور اُس نے انسان کو وہ کچھ بتایا جو وہ پہلے نہیں جانتا تھا۔یہ وحی آپ پر پہلے دن نازل ہوئی اور اس میں آپ کو یہ عظیم الشان بشارت دی گئی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اب آپ کو ایسے علوم عطا کئے جانے والے ہیں کہ جن کو اس سے پہلے دنیا میں کوئی انسان نہیں جانتا تھا۔میں سمجھتا ہوں جس وقت فرشتہ آپ کو یہ آیت سکھا رہا تھا اُس وقت اللہ تعالی عرش پر بیٹھا آپ سے کہہ رہا ہوگا کہ آليْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ | اے محمد ! بتا کہ میں نے تیری ضرورت کو پورا کیا یا نہیں کیا ؟ تیری وفادار بیوی موجود تھی ، تیرے وفا دار دوست موجود تھے ، تجھ سے محبت کرنے والے رشتہ دار موجود تھے مگر اُن میں سے کسی کی طاقت نہ تھی کہ وہ اس بارہ میں تیری مدد کر سکے ، تیرے زمانہ کے مذہبی علماء جو بڑے بڑے دعوے کر رہے تھے وہ بھی تیری کیا مدد کر سکتے تھے وہ تو گمراہ اور ہدایت سے محروم تھے۔اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! جب دنیا کا کوئی شخص بھی تیری مدد نہ کر سکتا تھا اُس وقت میں نے تیری ضرورت کو پورا کیا اور پھر میں نے صرف تیری ہی ضرورت کو پورا نہ کیا بلکہ تجھے ساری دنیا کی ضرورتوں کو پورا کرنے والا بنا دیا۔پھر جب آپ غار حرا سے دنیا کی ہدایت کا پیغام لے کر باہر آئے تو طبعا آپ کو یہ فکر ہوگا کہ خدا نے ہدایت کا سامان تو پیدا کر دیا مگر ایسا نہ ہو میرے عزیز اس ہدایت کا انکار کر کے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے مورد بن جائیں اور اس بارہ میں آپ کو سب سے زیادہ فکر حضرت خدیجہ کا ہی ہو سکتا تھا کیونکہ وہ آپ کی بڑی ہی خدمت گزار بیوی تھیں اور آپ کو بھی ان سے بڑی محبت تھی مگر اللہ تعالیٰ کا احسان دیکھو کہ جب آپ اپنے گھر تشریف لائے اور حضرت خدیجہ سے اس واقعہ کا ذکر کیا اور ساتھ ہی اس خوف کا اظہار کیا کہ نہ معلوم میں اتنی بڑی ذمہ داری کو پوری طرح ادا بھی کر سکوں گا یا نہیں تو حضرت خدیجہ جو آپ کی محرم راز تھیں اور جو آپ کی پاکیزہ خلوت اور جلوت کی گواہ تھیں انکار کرنے کی بجائے فوراً بول اُٹھیں کہ كَلَّا وَاللَّهِ مَا يُخْزِيكَ اللهُ أَبَدًا إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَحْمِلُ الْكَلَّ وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ وَتَقْرِى الضَّيْفَ وَتُعِيْنُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ یعنی خدا کی قسم ! اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی ضائع نہیں کر